تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 95
تاریخ احمدیت 95 جلد 21 مارچ 1960ء کے پہلے ہفتہ میں امریکہ کے صدر آئزن ہاور ڈچ گی آنا تشریف لائے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ نے اُن کی خدمت میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا تحفہ پیش کیا۔اس کا ذکر اخبارات نے کیا اور صدر امریکہ نے شکریہ کا خط بھی لکھا۔اسی طرح شیخ صاحب نے یوم مسیح موعود (23 مارچ) کی تقریب پر بذریعہ ریڈیو 25 منٹ تک خطاب کیا۔انڈونیشیا: جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی سالانہ کانفرنس 22, 23, 24 جولائی 1960 ء کو تاریخی اہمیت کے حامل شہر بانڈ ونگ میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ ملک میں گرانی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔اور کانفرنس میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہورہا تھا اس وجہ سے کانفرنس کے مہمانوں کی خوراک و رہائش کے اخراجات پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے لیکن کا نفرنس فنڈ کی آمد میں اس نسبت سے اضافہ نہ ہوا۔اس صورت حال کے پیش نظر شروع سال سے ہی اخراجات میں کمی کرنے کے لئے دوسرے ذرائع پر غور اور عمل درآمد کیا گیا چنانچہ بانڈ ونگ میں کانفرنس سے کئی ماہ قبل ورکنگ کمیٹی مقرر کی گئی۔اس سلسلہ میں بعض جماعتوں نے قابل تعریف نمونہ پیش کیا مثلا انڈونیشیا کے دارالحکومت جا کرتہ کی لجنہ اماءاللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر گھر میں ہر دفعہ چاول پکاتے وقت ایک مٹھی بھر چاول علیحدہ کر کے رکھے جائیں اس طرح جو چاول جمع ہوں وہ مہمانوں کے لئے استعمال کئے جائیں۔بانڈ ونگ کی جماعت کے بعض دوستوں نے اس غرض سے قربانی کے جانور پالے تا کہ کانفرنس کے موقعہ پر انہیں مہمانوں کی ضیافت کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ایک باغ میں سبزی لگائی گئی اور پھر جماعت کے نام پر ایک تالاب میں مچھلیاں خاص طور پر کانفرنس کے لئے پالی گئیں۔حضرت مصلح موعود نے سالانہ کا نفرنس کے لئے درج ذیل پیغام ارسال فرمایا۔در تبلیغ پر زور دیں بہت مدت سے وہاں تبلیغ جاری ہے اور اس وقت تک سارا ملک احمدی ہو جانا چاہئے تھا آپ کا علاقہ اسلام کے پھیلنے کے لئے بہت مفید ہے آپ کو تبلیغ کی طرف بہت توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق دے اور آپ کی زبان میں اثر پیدا کرے۔آمین حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے بھی اس موقعہ کے لئے ایک پیغام ارسال فرمایا جس