تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 93
تاریخ احمدیت 93 جلد 21 کانفرنس سے درج ذیل احباب نے خطاب کیا۔(1) جناب امین اللہ خان صاحب سالک (2) مکرم رشید احمد صاحب امریکن (3) مکرم بشیر الدین صاحب اسامه (4) مکرم حاجی ملک بشیر احمد صاحب (5) مکرم عابد حنیف صاحب (6) مولوی عبدالقادر صاحب ضیغم (7) ڈاکٹر خلیل احمد صاحب ناصر (8) مکرم خلیل محمود صاحب ( 9) مکرم احمد شہید صاحب (10) مکرم چوہدری غلام بیبین صاحب۔کانفرنس کے دوران شوری اور ذیلی تنظیموں کے اجلاس بھی ہوئے۔34 ریاست انڈیانا کے دارالحکومت انڈیانا پیلس میں جماعت احمدیہ کے مبلغ مکرم امین اللہ خان صاحب سالک کا انٹرویو 11-12 نومبر 1960ء کی درمیانی شب ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔جس سے جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا گیا تھا۔اس انٹرویوکو انڈیانا پیلس ٹائمنز نے مشن ہاؤس کے قیام کی خبر دیتے ہوئے شائع کیا۔مکرم امین اللہ خان صاحب سالک نے دسمبر 1960ء کے آخر میں اوہائیو کے دارالحکومت کولمبس کا دورہ کیا۔وہاں کے 2 ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے اُن کے انٹرویو نشر کئے اور اخبارات نے اُن کی آمد پر اسلام کے متعلق نمایاں خبریں شائع کیں۔چنانچہ ایک اخبار نے لکھا۔اسلام کے پیروؤں کا کہنا ہے کہ افریقہ کی نئی قوموں میں جہاں عیسائیت اور اسلام دونوں افریقیوں کو اپنے اپنے مذہب کا حلقہ بگوش بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اسلام کے حق میں تحریک زور پکڑ رہی ہے دریں اثناء خود ہمارے اپنے گھر (امریکہ ) میں لوگ محمد کے مذہب میں بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس امر کی ایک اور نشاندہی یہاں پیر کے روز ہوئی۔جماعت احمدیہ نے جو اسلام کا ہی ایک فرقہ ہے اپنے ہیڈ کوارٹر ربوہ پاکستان سے مختلف علاقوں اور مقامات میں اپنے مبلغ بھیج کر اپنے اثر و نفوذ کو ساری دنیا کے گرد وسیع کر دیا ہے۔اور ان مقامات میں کولمبس کا شہر بھی شامل ہے۔امین اللہ خان نے جو مبلغ اسلام کی حیثیت سے حال ہی میں یہاں پہنچے ہیں ایک ملاقات میں کہا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام میں دلچسپی رکھنے والے بعض لوگوں کی درخواست پر ہی اس شہر میں آئے ہیں۔یادر ہے اُن کی آمد کا مقصد تبلیغی مشن قائم کرنا ، اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دور کرنا اور اسلام کو اُس کی حقیقی اور اصل شکل میں پیش کرنا ہے۔یہ کیا مذہب ہے جس نے یہ