تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 77 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 77

تاریخ احمدیت 77 جلد 21 دوسرے روز شام کو مسٹر بھجات ہمارے مشن میں تشریف لائے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ٹھہرے رہے۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ سے روشناس کرایا گیا۔نیز دنیا کے تمام اہم احمد یہ مسلم مشنوں کا بھی یکے بعد دیگرے تعارف کرایا اور ساتھ ساتھ دنیا میں جماعت احمدیہ کی طرف سے قائم کردہ مساجد سکول کالج اور مشن سنٹر ز کی تصاویر بھی دکھا ئیں اور اپنے اکثر احمد یہ انگریزی اور عربی اخبارات اور رسالوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف تحفہ بغداد اور استفتاء وغیرہ کی ایک ایک کاپی بھی انہیں تحفہ پیش کی وہ یورپ اور امریکہ میں ہماری نئی مساجد کی تصاویر دیکھ کر بہت ہی خوش ہوئے اور جماعت احمدیہ کے ممبران اور خصوصاً مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ دینے والوں کو بہت دعائیں دیں اور ہماری ہر مسجد اور مشن کی ابتداء اور بنیاد وغیرہ کے متعلق جملہ معلومات تحریراً نوٹ کرتے رہے۔اس کے بعد خاکسار نے ان کے استفسار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور ایک احمدی اور غیر احمدی میں مابہ الامتیاز پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ احمدیت حقیقی اسلام کے سوا اور کوئی نئی چیز دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتی اور اس کا مقصد قرآنی آیت کریمہ یا ایها الذین امنوا بالله ورسوله الخ کے مطابق مسلمان عوام کو حقیقی اور سچے مومن بنانے اور تمام دنیا کے دیگر مذاہب کے لوگوں کو بذریعہ تبلیغ دین اسلام میں داخل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نزدیک یہی امام آخرالزمان کی بعثت کی غرض وغایت ہے۔جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پورا کرنے میں دن رات ہمہ تن مشغول ہے۔مسٹر بھجات صاحب نے آخر پر فرمایا کہ آپ کی باتیں واقعی نہایت قابل غور ہیں جنہوں نے مجھ پر گہرا اثر کیا ہے اور بطور مسلمان ہم شرمندہ ہیں کہ ہم اسلام کی بذریعہ تبلیغ اشاعت اور اس کی تقویت کا فریضہ جو ہم پر عائد ہوتا ہے ادا نہیں کر رہے۔لیکن ہمیں خوشی ہے کہ آپ کی جماعت کے افراد دنیا کے باقی مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ کے طور پر یہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں نیز آپ نے کہا کہ میرے اپنے والد از ہر شریف کے خاص مشائخ میں سے ہیں اور میں خود بھی از ہر شریف کا تعلیم یافتہ ہوں اور ہمیں واقعی افسوس ہے کہ مصر کے اس اہم اور مقدس اسلامی ادارے کو با قاعدہ غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے اور دش اسلام کے تبشیر ی حملوں کا مقابلہ کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔میرا ارادہ ہے کہ میں اپنی واپسی پر ان شاء اللہ جامعہ از ہر کے سرکردہ مشائخ کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں۔مشن سے رخصت ہونے سے پہلے آپ نے مشن کی وزیٹر ز بک میں مندرجہ ذیل ریمارکس دیئے كم كان سردری آن ارى دعاة الاسلام الاحمد يين في غرب افريقيا وفقكم الله تعالى