تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 58
تاریخ احمدیت 58 غریب، خواہ سفید ہے یا سیاہ، یورپین ہے یا افریقن سب کے ساتھ ایک سطح پر آجاتا ہے۔سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جو چیز انہیں عظمت دیتی ہے وہ تقویٰ اللہ ہے نہ کہ رنگ ونسل یا ملک اور قوم۔تقریر کے بعد حاضرین کو سوالات کا موقع دیا گیا۔محترم چوہدری صاحب کی تقریر سے حاضرین اس درجہ متاثر ہوئے کہ مجلس کے صدر نے اپنی مجلس کا خاص نشان ( پیج ) اسی وقت چوہدری صاحب کی اچکن پر لگایا اور اعلان کیا کہ آج کی تقریر نے ہمیں اسلام کے بہت قریب کر دیا ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فاضل مقرر کو اس کامیاب تقریر پر اپنی مجلس کی طرف سے ایک تمغہ بطور یادگار پیش کیا جائے انہوں نے بتایا کہ آج تک ان کی مجلس نے صرف تین ایسے تم نے عظیم مقرروں کو پیش کئے ہیں۔اور یہ چوتھا امتیازی تمغہ ہے جو آج کے فاضل مقر ر کو پیش کیا جائے گا۔ہمارے ڈینش احمدی بھائی عبدالسلام صاحب بڑے اخلاص سے کام کرنے والے نوجوان ہیں اور قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختلف سوسائٹیوں میں تقاریر کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچانے میں مصروف رہے۔محترم صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں مورخہ 20 جنوری 1961ء کو ہمبرگ تشریف لائے۔آپ کا استقبال یہاں پر مقیم پاکستانیوں نے کیا۔امام صاحب مسجد ہمبرگ نے صدر موصوف کو پھولوں کا خاص طور سے تیار شدہ ہار پہنایا اور تمام پاکستانیوں کی طرف سے ہمبرگ میں آپ کو خوش آمدید کہا۔اخبارات نے مشرقی انداز کے اس استقبال کو بہت سراہا اور ہار پہنانے کی تصاویر شائع کر کے لکھا کہ امام مسجد ہمبرگ نے اپنے صدر کو پھولوں کا ہار پہنا کر مشرقی روایات کو زندہ کر دیا ہے۔اور لکھا کہ جرمنی بھر میں اس سے زیادہ پر جوش اور مؤثر استقبال اور کسی جگہ نہیں ہوا۔دوسری بار محترم صدر مملکت سے ملاقات کے لئے امام صاحب اور خاکسار اٹلانٹک ہوٹل میں حاضر ہو گئے صدر موصوف نے بڑے اطمینان سے جماعت احمدیہ کی اسلامی تبلیغی سرگرمیوں کی تفاصیل سنیں۔اسی موقعہ پر خاکسار کو صدر محمد ایوب خاں کے ذاتی معالج بر یگیڈئر محمد سرور سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔جس میں خاکسار نے انہیں جرمنی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے تعمیر کی گئی جلد 21