تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 601 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 601

تاریخ احمدیت 601 جلد 21 شخصیت کو اور بھی نکھار دیا۔سلسلہ کی ہر کتاب آپ کے کتب خانہ میں موجود تھی۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتب سے لے کر آپ کے آئمہ کی کتب نیز جماعت کے بزرگ علماء کی کتب اس کتب خانہ میں موجود تھیں۔آپ کا روزانہ کا معمول تھا کہ رات میں ان کتب کا مطالعہ فرماتے۔آپ کی نیک سیرت اور علمی تبحر کے پیش نظر آپ کو برس ہا برس تک حیدر آباد دکن کا سیکرٹری دعوت الی اللہ رہنے کا شرف حاصل رہا۔وہ ایک عالم ، مد بر، بہت اچھے مقر ر اور عدہ نثر نگار تھے آپ کے اکثر مضامین الفضل اور ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہوتے رہے۔کبھی کبھی نظم بھی کہہ دیا کرتے اور چند نظمیں آپ کی الفضل میں بھی چھپ چکی ہیں۔آپ کی سرشت میں خدمت خلق کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔کیا اپنے خاندان کے افراد اور کیا اپنے رحمی رشتوں کے افراد کی بے حد خدمت کی جنہیں ملازمتوں کی ضرورت تھی انہیں ملازمتیں دلوائیں۔جنہیں مالی امداد کی ضرورت تھی انہیں مالی امداد فراہم کی مگر ایسے کہ صرف لینے والا ہی جانتا تھا۔خاندان کے بچوں کی پڑھائی میں بیحد دلچسپی لیتے گو کہ اکثر اوقات آپ کے پاس وقت کی کمی ہوتی۔بہت سے بچے آپ سے پڑھنے آتے اور آپ نہایت کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے انہیں پڑھاتے۔خاص طور پر انگریزی اور حساب۔یتیموں ، بیواؤں اور ایسے احباب کی خاص طور پر مدد فرماتے جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے سوال نہیں کر سکتے تھے۔بیواؤں اور غریبوں کے مقدمات عام طور پر بغیر معاوضہ کے لڑتے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ جاتے نہیں دیکھا۔بہت سے حضرات اور ضرورت مندوں کو قرضہ حسنہ دیا کرتے لیکن کبھی اپنی طرف سے شائد ہی کسی سے واپسی کے لئے کہا ہو۔آپ کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ جب کبھی بھی آپ کسی دوست یا سائل کو قرضہ حسنہ دیا کرتے اس کا کوئی تذکرہ گھر میں عام طور پر نہیں فرماتے اور اگر ان میں سے کوئی رقم لوٹانے میں کامیاب نہ ہوتے تو کبھی حرف شکایت اپنی زبان پر نہ لاتے۔آپ کی شخصیت اپنے اعلیٰ اخلاق ، نیک فطرت اور انسانی ہمدردی کی وجہ سے ہر ماحول اور ہر حلقہ احباب میں نہایت معروف و مقبول رہی۔ہر شخص چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب یکساں آپ کی عزت کرتے کیونکہ آپ ہمہ وقت خدا کی مخلوق کی خدمت کے لئے تیار رہتے۔9۔خلیفہ صلاح الدین احمد صاحب وفات 9 دسمبر 1962ء مسیح الزماں کے رفیق خاص حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب کے فرزند ارجمند اور سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود کے برادر نسبتی۔آپ بہت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔قادیان میں آپ