تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 594
تاریخ احمدیت 594 جلد 21 سال سور و پیه یکمشت عنایت فرماتی رہیں حتی کہ 1949ء میں بھی جبکہ آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کر لیا ایک سال تک یہ وظیفہ جاری رکھا۔1951 ء سے 1954 تک آپ روز نامہ الفضل ربوہ اور روزنامه المصلح، کراچی کے ادارہ ء تحریر میں شامل رہے اور رپورٹنگ اور خبروں کی ایڈیٹنگ کے علاوہ بعض انگریزی تراجم اور نہایت قابل قدر مضامین سپرد قلم کئے۔اس کے بعد آپ نے اسلامی تاریخ کی عربی کتب کے تراجم کی طرف توجہ دی اور نہایت مختصر عرصہ میں مشرق وسطی کے بلند پایہ اور نامور ادباء وفضلاء کی تصانیف کو ایسی عمدگی ، سلاست، روانی اور نفاست کے ساتھ اردو زبان میں منتقل کیا کہ برصغیر میں دھوم مچ گئی اور اس میدان میں آپ نے اتنی شہرت حاصل کی کہ بہتوں سے آگے نکل گئے اور بڑے بڑے نقادوں سے خراج تحسین حاصل کیا۔علامہ نیاز فتحپوری نے لکھا ترجمہ شیخ محمد احمد پانی پتی کا ہے اور خوب ہے ( نگارلکھنو نومبر 1955ء) مولانا رئیس احمد جعفری نے آپ کی ایک کتاب کی نسبت یہ رائے دی کہ۔اس ترجمہ کے بعض مقامات پر تو رشک کرنے کو جی چاہنے لگتا ہے واقعہ یہ ہے کہ ترجمہ اتناشستہ اور رواں ہے کہ ترجمہ پن ذرا بھی محسوس نہیں ہوتا“ ( ثقافت ستمبر 1957 ء) جماعت اسلامی کے ترجمان روز نامہ تسنیم یکم جون 1956 ء نے لکھا:۔مصنف ( عمر ابوالنصر ) کے اسلوب نگارش نے کتاب کو ایک دلکش ادبی جامہ پہنا دیا ہے اور فاضل مترجم نے ترجمہ میں اس دلکشی کو قائم رکھنے کی پوری اور کامیاب کوشش کی ہے ترجمہ نہایت شستہ اور رواں ہے اور زبان بے حد شگفتہ اور دلفریب ہے۔“ ہفت روزہ چٹان لاہور ( 24 جون 1957 ء) نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔مستند ہونے کے ثبوت میں یہی کہہ دینا کافی ہے کہ اس کے مصنف عالم اسلام کے عظیم المرتبت و نامور مورخ ڈاکٹرمحمد حسین ھیکل مصری مرحوم ہیں شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی نے اسے اردو کا لباس پہنا کر ترجمہ میں تصنیف کا رنگ بھر دیا ہے۔“ ماہنامہ طلوع اسلام لاہور ( جولائی 1957 ء ) نے ھدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے لکھا:۔ترجمہ شگفتہ ہے اور ترجمہ معلوم نہیں ہوتا۔ہم اس ترجمہ کی کامیابی پر محمد احمد صاحب کو قابل 66 مبارکباد سمجھتے ہیں۔“ ماہنامہ چراغ راہ (اپریل 1958 ء) نے لکھا:۔”آزادی کے بعد ہماری ادبی دنیا میں عربی سوانخ و تاریخ کی کتب کے تراجم شائع کرنے کا