تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 586
تاریخ احمدیت 586 جلد 21 1916-17ء میں وفات پا کر مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔والد مرحوم دوصد روپے وصیت حصہ جائیداد سید آدم خان مرحوم لیکر قادیان آئے اور مسجد مبارک میں حضرت اصلح الموعود کےسامنے رکھ دیئے۔فرمایا کہ یہ ایک ایسی جگہ سے رقم لائے ہیں کہ لوگ ایک ایک پیسے پر قتل کردئے جاتے ہیں۔حضور نے یہ رقم حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب خسر حضرت اصلح الموعود کو دیدئیے۔یہ واقعہ میں نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں عرض کیا تو فرمایا کہ مجھے یہ واقعہ یاد ہے۔علاقہ خوست سے جتنے افغان احمدی قادیان ہجرت کر کے آئے ہیں یا طلبہ آئے ہیں ان سب کو میرے تایا مرحوم سید آدم خان و عبدالرحیم خان مرحوم لیکر آئے ہیں۔دونوں بھائیوں نے حضرت سید عبداللطیف شہید کی بیعت کی تھی اور دونوں نے حضرت شہید مرحوم کے ساتھ میراں شاہ ایجنسی برطانیہ تک آئے تھے اور یہاں سے ان کو اور دوسرے ہمراہیوں کو واپس کر دیا تھا۔حضرت والد مرحوم نے شہید مرحوم کے گھوڑے کی لگام پکڑی ہوئی تھی۔فرمایا۔پائجامہ نیچے کرلو زیادہ اوپر ہے۔حضرت شہید مرحوم کے صاحبزادہ حافظ محمد طیب صاحب کو گود میں کھیلایا ہے۔اسی طرح باقی بچوں کو بھی کھیلایا ہوگا۔حضرت شہید مرحوم کے ساتھ پانچ افراد قادیان گئے تھے ان کو اچھی طرح میں نے دیکھا پہچانا ہے۔چھٹے آدمی نے بیعت نہیں کی تھی۔ان کو نہیں جانتا ہوں۔مجھے میرے والد 19-1918ء میں قادیان لائے تھے۔مجھ سے پہلے میرے بڑے بھائی حبیب الرحمن و غلام محمد مرحوم حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور چند دوسرے طلبہ آئے تھے اور ولی دادخان شہید کو میرے تایا سید آدم خان مرحوم قادیان لائے تھے۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے 18 سال کی عمر میں نماز تہجد شروع کی ہے اور اخیر عمر تک با قاعدگی سے پابند رہا ہوں۔صاحب کشف و رویا صالحہ تھے۔ان پڑھ تھے۔لیکن قرآنی آیات کی صورت میں خواب میں آجاتی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی۔۔۔بچی کے رشتہ کے بارہ میں ہمراہ وقیع الزمان صاحب استخارہ کا کہا۔دوسرے دن حضرت میاں صاحب کو کہا۔”انا فتحنا لک فتحا مبينا“ کے الفاظ میری زبان پر بار بار جاری ہوئے ہیں۔سب سے پہلے بیت المال کے محافظ پہرہ دار والد صاحب مفت مقرر ہوئے تھے بعد میں ایک روپیہ مشاعرہ مقرر ہوا۔بیت المال کی حفاظت کیلئے بندوق کا لائسنس ہم دونوں باپ بیٹے کے نام تھا۔جب