تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 574 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 574

تاریخ احمدیت 574 جلد 21 تیں سال کی ہوگی اور شیخ صاحب حضور کی صاف گوئی ، صداقت پسندی اور گریہ وزاری سے بہت متاثر ہوئے۔166 وو شیخ صاحب کو قبول احمدیت کی سعادت میاں محمد چراغ صاحب مصنف ” سیف حق“ اور امام 198 الدین صاحب ساکن قلعہ کے ذریعہ نصیب ہوئی چنانچہ آپ کا بیان ہے :- ’والد صاحب سے اس خاندان کے حالات سن کر حضرت مسیح موعود کی عظمت سے متاثر تھا میں پھیری کر کے بزازی کا کاروبار کرتا تھا۔اس لئے حضور کے دعوی کی طرف کوئی توجہ نہ ہوئی۔ایک دن محمد چراغ صاحب مصنف سیف حق“ اور امام الدین صاحب ساکن قلعہ ہمارے گاؤں میں آئے محمد چراغ صاحب کی سہ حرفی کا مجھے صرف ایک شعر یاد ہے۔الف اُٹھ جیا چل قادیاں نوں جتھے مہدی مسیح نزول کیتا سنو علم والے جیہڑے لوگ آپے حلیہ دیکھ کے اونہاں قبول کیتا یہ موسم گرما تھا میں نماز تہجد کے لئے اٹھا تو دیکھا چار پانچ گھروں کے فاصلہ پر چھت پر دو اشخاص عبادت میں مصروف ہیں اور جب میں نے نماز تہجد ختم کر لی تو پھر بھی ان دونوں کو میں نے مصروف عبادت دیکھا تو خیال آیا کہ یہ فرشتہ سیرت لوگ ہمارے گاؤں میں آئے ہیں۔ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔چنانچہ ان سے ملاقات کی تو ان کی پاکیزہ دلی ان کے چہروں سے ہی نظر آتی تھی اور دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ہم احمدی ہیں اور ہم نے یہاں ٹھیکہ پر کام لیا ہے اور چھ ماہ تک اسی گاؤں میں ہمارا قیام ہوگا اور انہوں نے بتایا کہ احمدیت اور حضور علیہ السلام کا دعویٰ کیا ہے۔حضور علیہ السلام کا دعویٰ میرے لئے باعث تعجب تھا کیونکہ میں حیات مسیح کا قائل تھا۔میں نے حیات مسیح کے متعلق کچھ آیات پیش کیں جو انہوں نے فوراً حل کر دیں اور میں ان کے دلائل سے اسی وقت وفات مسیح کا قائل ہو گیا۔ان کا انداز گفتگو اسقدر حلیمانہ اور پر خلوص تھا کہ ان کی ایک ایک بات میرے دل میں اترتی چلی گئی میرے دریافت کرنے پر کہ وہ قادیان کب جائیں گے انہوں نے بتایا کہ وہ کل جمعہ وہیں پڑھیں گے تو میں نے کہا کہ مجھے ساتھ لے چلیں۔چنانچہ ہم تینوں قادیان پہنچے اور بیت مبارک میں گئے۔موذن نے اسقدر خوش الحانی سے اذان دی کہ گویا ایک وجد کا عالم طاری ہو گیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے خطبہ دیا جو پُر سوز تھا جس کا نماز میں بھی اثر قائم رہا۔حضور کوئی ڈیڑھ بجے بیت الذکر میں تشریف لائے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ مغسل خانہ سے نکل کر آئے ہیں۔حضور کا انوار سے منور چہرہ دیکھ کر حضور کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی ایک