تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 39
تاریخ احمدیت 39 جلد 21 مفلس بھائیوں کی مشکلات کا احساس جنہیں کبھی پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔لہذا ماہ رمضان شریف صرف انفرادی پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے بلکہ ہماری اجتماعی زندگی پر ایک نہایت خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔اس تقریر کے بعد ولی اللہ یانسن (W۔U۔JANSEN) نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ پر روشنی ڈالی اور لوگوں کو بتلایا کہ اعتکاف کا کیا مطلب ہے۔آپ نے کہا پورے دس دن تک مسجد میں محض رضائے الہی کی خاطر بند ہو کر رہ جانا ہمارے قلوب میں ایک بہت بڑے تغیر اور انقلاب کا باعث ہوتا ہے اور معتکف کا یہ سارا وقت عبادت و تلاوت اور محاسبہ نفس میں گزرتا ہے۔تیسری تقریر ہمارے نو مسلم بھائی عبدالرشید (J۔M۔FUNDTER) نے کی تھی۔آپ نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ محنت مشقت اور جد و جہد میں ہی ہماری کامیابی کاراز مضمر ہے۔آپ نے اس خیال کی پرزور تردید کی کہ اسلام ہمیں تقدیر کا سبق دے کر ایک عضو معطل کی طرح کر دیتا ہے کارروائی کی مفصل رپورٹ لوکل اخبارات میں شائع ہوئی۔بیرونی مجالس میں تقاریر 2 فروری کو (JONGE KERK) تنظیم کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی جونو جوانوں کی ایک مذہبی سوسائٹی ہے۔چنانچہ واختگن کے مقام پر ایک مفید لیکچر ہوا۔یہ جگہ ہیگ شہر سے کافی دور واقع ہے مکرم جناب حافظ قدرت اللہ صاحب نے ایک گھنٹہ تک تقریر فرماتے ہوئے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ فرمایا۔وقفہ کے بعد سوالات اور مبادلہ خیالات کا بھی موقع تھا چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔دور کے سفر کی وجہ سے اور لوگوں کی دلچسپی کے پیش نظر مکرم حافظ صاحب کو رات وہیں بسر کرنا پڑی۔12 فروری کو موضع (DEBILT) میں وہاں کے اچھے تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک عیسائی سوسائٹی نے اسلام پر لیکچر کے لئے مدعو کیا۔یہ جگہ بھی ہیگ سے کافی فاصلہ پر ہے اس موقع پر دیگر حضرات کے علاوہ پادری صاحبان بھی موجود تھے۔مکرم جناب حافظ صاحب نے چرچ سے ملحقہ میٹنگ روم میں ایک گھنٹہ تک اپنے خیالات کا اظہار کیا جو لوگوں کے لئے کافی دلچسپی اور معلومات کا باعث ہوا۔تقریر کے اختتام پر تبادلہ خیالات ہوا۔مؤرخہ 12 فروری کو لو تھر گروپ کی طرف سے ایک تقریر کروائی گئی جس میں مکرم جناب حافظ صاحب نے ایک گھنٹہ تک تقریر کی جس کے بعد تبادلہ خیالات کا کھلا موقع تھا ہماری طرف سے ہمارے ڈچ نومسلم مسٹر عبدالرشید (MR۔FUNDTER) نے بحث میں حصہ لیا۔یہ سلسلہ گفتگوقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا اور کافی رات گئے مجلس برخاست ہوئی۔اور