تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 445
تاریخ احمدیت 445 جلد 21 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل ( یکم جون 1962ء) کے ذریعہ دار الیتامی کے قیام کی اطلاع دی اور تحریک فرمائی کہ مخیر اصحاب امدا د فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔اس تحریک پر بہت سی مخلص جماعتوں نے لبیک کہا سید داؤ د احمد صاحب کو غربا اور یتامیٰ کی پرورش اور نگہداشت کا جذبہ ورثہ میں ملا تھا۔آپ با وجود دوسری بہت سی مصروفیات کے اس مبارک خدمت میں پوری طرح منہمک ہو گئے۔جیسا کہ آپ کی مندرجہ ذیل ابتدائی رپورٹ سے عیاں ہے آپ تحریر فرماتے ہیں:۔دو مجلس مشاورت کے فیصلہ کے مطابق دار الیتامی قائم کر دیا گیا ہے فی الحال ایک مکان کرایہ پر لے لیا گیا ہے۔اس وقت دس بچے داخل ہیں ان کے کھانے اور رہائش کا مناسب انتظام ہے۔تربیت اور نگرانی کے لئے ایک ٹیوٹر مقرر ہے۔حضرت میاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی تحریک کے نتیجہ میں بہت سے احباب اور جماعتیں عطیہ جات ارسال فرماتے ہیں۔16 مارچ 1963 ء تک کل رقم وصول شدہ - 12,323 روپے بنتی ہے۔مستقل عمارت کی تعمیر زیر غور ہے۔آبادی کمیٹی ربوہ نے چار کنال زمین دینی منظور کی ہے جس کا قطعہ تا حال معین نہیں ہوا۔جو نہی قطعہ معین ہوگا۔نقشہ بنا کر عمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔انشاء اللہ العزیز مستقل عطیہ جات کے لئے احباب جماعت کی خدمت میں حسب فارم مجوزہ تحریک کی جا رہی ہے۔اس وقت تک مندرجہ ذیل چار احباب نے مستقل ماہوار عطیہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔1- سیدہ مہر آپا صاحب حرم حضرت امیر المومنین خلیفة اسم الثانی ایدہ اللہ تعالی نصر العزيزة 2۔چوہدری سلطان محمود صاحب انور مربی سلسلہ 3 چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب 4- ماسٹر فقیر اللہ صاحب ہماری کوشش یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ احباب اور جماعتیں مستقل ماہوار عطیہ مقرر کریں اس سے امید ہے کہ جملہ اخراجات پورے ہوتے رہیں گے۔صاحبزادی امته الباسط بیگم صاحبہ (حرم سید داؤد احمد صاحب) کا بیان ہے کہ میر صاحب دار الاقامہ النصرۃ“ کے لڑکوں کا خاص طور پر بہت خیال رکھتے تھے جمعہ کے دن بھی گھر سے باہر چلے جاتے۔میں نے اُن سے کہا کہ جمعہ کے دن تو چھٹی ہوتی ہے آپ صبح ہی صبح کہاں جاتے ہیں؟ کہنے لگے میں دارالاقامہ کے لڑکوں کے پاس جاتا ہوں تا ان کو یہ احساس نہ ہو کہ ہمارا کوئی نہیں اور کہنے لگے جب سے