تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 444 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 444

تاریخ احمدیت 444 جلد 21 خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ نیکی اور تقویٰ اور عملی قوت کو ترقی دیں۔دنیا کا وسیع میدان حق و صداقت کی پیاس میں تڑپ رہا ہے۔بلکہ خود احمدیت کے نوجوان تربیت کے پیاسے ہیں ان کے اندر سچائی اور روحانیت کی روح پیدا کریں کہ گویا اسلام اور احمد بیت کا سارا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے۔منزل بہت دور کی ہے اور ہم بالکل شکستہ پر ہیں۔خدا کی نصرت کے سوا کوئی امید کی جھلک نہیں سوائے اس کے کہ ہمارے نوجوان اپنے اندر وہ آگ پیدا کریں جو خدائی نصرت کو بھینچتی ہے اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ر بوه 62-05-01 کلاس کی اختتامی تقریب میں مولانا ابوالعطاء صاحب نے نمایاں طور پر کامیاب طلباء کو انعامات تقسیم کئے اور اپنے پُر اثر خطاب میں نصیحت فرمائی کہ وہ ابھی سے اپنا سمح نظر بنا ئیں کہ انہوں نے بہر حال 87 دین کی خدمت کرنی ہے۔ربوہ میں دار الاقامہ النصرہ کا قیام قادیان میں جماعت کے یتیم اور نادار بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے لئے ”دار الشیوخ کا نہایت مفید ادارہ قائم تھا جس نے محدث احمدیت حضرت میر سید محمد الحق صاحب کی ذاتی توجہ، غیر معمولی جد و جہد اور حسن تربیت سے سلسلہ احمدیہ اور ملک وملت کے لئے کئی قیمتی اور گرانمایہ وجود پیدا کئے۔ایک عرصہ سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس قسم کا کوئی دارالیتا می ربوہ میں بھی موجود ہونا چاہیئے۔اس سلسلہ میں ملک عبد اللطیف صاحب ستکو ہی مولوی فاضل نے پہلی بار مجلس مشاورت 1961ء میں اور دوبارہ مجلس مشاورت 1962ء میں پر زور تحریک کی اور ابتدائی امداد کے طور پر دو ہزار کا گرانقدر چندہ اور اپنا مکان بھی پیش کیا۔جس کے بعد حضرت مصلح موعود کی منظوری سے 1962 ء کے وسط میں دار الاقامہ النصرة“ کا قیام عمل میں آیا اور اس کی نگرانی کے فرائض حضرت میر سید محمد الحق صاحب کے خلف اکبر سید داؤ د احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمدیہ کے سپرد ہوئے جنہیں اسبارہ میں کچھ عرصہ قبل حضرت مصلح موعود کی طرف سے بھی توجہ کرنے کا ارشادمل چکا تھا اور وہ خود بھی اس پر غور اور مشورہ کر چکے تھے۔ادارہ کا نام حضرت مصلح موعود کی منظوری سے حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم ( نوراللہ مرقدھا) کی یاد میں تجویز کیا گیا تھا۔90