تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 340 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 340

تاریخ احمدیت 340 اولاد ہوتا رہا مگر والد محترم کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی برکت سے چھ بیٹے عطا فرمائے جن میں سے ایک تو بچپن میں فوت ہو گیا اور باقی پانچ بیٹوں سے جو نسل چلی وہ اب تک سینکڑوں میں آچکی ہے۔خود پور مانگا میں ہماری جدی زرعی زمین دریا برد ہو چکی تھی اور نئے بند و بست اراضی کے تحت ضلع منٹگمری اور ضلع لائکپور میں مالکان زمین کونی آبادکاری کے لئے زرعی زمین دی جا رہی تھی اس سے استفادہ کرنے میں ہمارے دادا نا کام رہے کیونکہ وہ ایک علمی خاندان سے متعلق تھے جن کا بنیادی کام درس و تدریس تھا۔اس لئے والد صاحب کو اپنے آبائی مقام سے نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ مع اہل وعیال کے پکی ٹھٹی تحصیل چونیاں میں رہائش پذیر ہو گئے اور یہیں سے انہیں قبول احمدیت کی توفیق ملی۔۔۔۔۔اس کے بعد والد صاحب علی پور نزد پتو کی ضلع لاہور میں منتقل ہو گئے اور ان کا کام قرآن کریم کی درس و تدریس اور دعوت الی اللہ رہا۔جس کے نتیجہ میں علی پور ، شمس آباد اور کھر پھٹر وغیرہ میں جماعت احمدیہ کا قیام ہوا۔اور میری پیدائش بھی 13 اپریل 1919 ء کو علی پور میں ہوئی۔پھر کچھ عرصہ بعد والد صاحب مع اہل و عیال چک نمبر 1 - 6/11 ضلع منٹگمری میں رہائش پذیر ہو گئے جہاں آپ نے مطب کھولا۔برانچ پرائمری سکول میں مدرس کے طور پر کام کرتے رہے اور ساتھ ہی برانچ پوسٹ ماسٹر کا عہدہ بھی سنبھالا اور اس کے ساتھ ساتھ گاؤں کے اکثر مردوں اور خواتین کو قرآن کریم ناظرہ پڑھایا جس میں احمدی اور غیر از جماعت بھی شامل تھے اور دعوت الی اللہ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک محکم جماعت یہاں قائم ہو گئی جس کے صدر مکرم چوہدری نورالدین صاحب ذیلدار مرحوم تھے۔1 - حسین بی بی صاحبہ 2 - محمد صدیق صاحب 3 - مریم صاحبہ ( فوت شدہ) 4۔محمد اسماعیل صاحب 5۔بشیر احمد صاحب مرحوم جلد 21