تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 334 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 334

تاریخ احمدیت 334 جلد 21 حضور نے احمد یہ سٹور کے لئے ایک انتظامیہ کمیٹی بھی منظور فرمائی جس کے حسب ذیل ممبران تھے : حضرت قاضی امیر حسین صاحب منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی۔شیخ نورالدین صاحب۔ماسٹر غلام محمد صاحب بی اے۔منشی نعمت اللہ صاحب ( کلرک بورڈنگ ہاؤس )۔سٹور کے ایک حصہ کی قیمت پانچ روپے مقرر کی گئی۔سٹور نے چوہدری حاکم دین صاحب اور شیخ نور الدین صاحب کی مساعی سے خوب ترقی کی اور اس کا سرمایہ نوے ہزار کے قریب پہنچ گیا۔سٹور کے ماتحت ایک دکان تھوک کی دو دکانیں پرچون کی ایک دکان دیار کی لکڑی اور ایندھن کی ایک بھٹہ اور آنا پینے کا انجمن جاری کیا گیا۔اب کام بہت بڑھ گیا تھا اور یہ پورا وقت چاہتا تھا۔اس لئے ماسٹر غلام محمد صاحب کو سٹور سے الگ ہونا پڑا۔آپ کی غیر حاضری میں شیخ عبدالرحمان صاحب مصری نے جو سٹور کے مینجر مقرر ہوئے تھے بہت سا فضول سودا خرید لیا جو نقصان پر فروخت کرنا پڑا اور بالآخر نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ سٹور بند کر دیا گیا۔بہر حال جماعت کی اجتماعی رنگ میں یہ پہلی کوشش اور ایک نیا تجربہ تھا جس کا آغاز حضرت ماسٹر غلام محمد صاحب کی تحریک سے ہوا۔مئی 1933 ء میں آپ نے حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی کی مدد سے سھیل العربیہ “ کے نام سے ایک ہزار صفحات پر مشتمل مستند عربی اردو لغت شائع فرمائی۔یہ کتاب ان بزرگوں کی چار سال کی شبانہ روز محنت و جانفشانی سے تیار ہوئی اور بہت مقبول ہوئی۔قرآن مجید کے محاورات اور اس کے معانی اور نئے علمی الفاظ واصطلاحات کو خصوصیت سے اس میں درج کیا گیا تھا۔1935ء میں آپ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول سے نصرت گرلز سکول میں بطور مینجر منتقل کر دیا گیا۔آپ نے گرلز سکول کو مڈل سے ہائی بنانے کی تجویز کی اور اس کے لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نزدیک ایک عمارت کرایہ پر لی اور حضرت مولوی محمد دین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے مشورہ اور انسپکٹر مدارس کی اجازت سے لڑکیوں کی ہائی کلاسز لڑکوں کے ہائی سکول کے سیکشن کے طور پر بنا دیں۔لڑکیاں پردہ میں بیٹھتی تھیں۔یہ انتظام تین سال تک جاری رہا۔بعد ازاں ایک ہند و انسپکٹر مدارس آ گیا جس نے یہ انتظام نا منظور کر دیا۔اس پر آپ نے مستقل طور پر لڑکیوں کا ہائی سکول جاری کر دیا۔اسی دوران صدر انجمن احمدیہ نے حکیم محمد عمر صاحب سے ایک شاندار عمارت خرید لی اور سکول اس میں منتقل ہو گیا جہاں آپ کی مساعی سے ایف اے اور پھر بی اے کلاس بھی شروع کر دی گئی اور ان کے امتحانات کے لئے قادیان میں سنٹر بھی کھلوا لیا۔آپ کے زمانہ کارکردگی میں طالبات نے ایک بار بی اے کا امتحان دیا۔اس کے بعد آپ ریٹائر ہو گئے۔10