تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 274
تاریخ احمدیت 274 جماعت کے شامل حال رہیں۔امین۔اللهم امين۔“ روح پرور اختتامی خطاب کا متن 66 جلد 21 حضرت مصلح موعودؓ کے روح پر در اختتامی خطاب کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔اس خطاب کے پر شوکت انداز میں پڑھنے کا اعزاز بھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو حاصل ہوا جو مخلصین کے ازدیاد ایمان اور زندگی کی نئی روح پیدا کرنے کا موجب بنا اور قافلہ ایک بار پھر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا۔اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمدا عبده و رسوله اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين اياك نـعبــد و اياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم O صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين (أمين) احباب کو معلوم ہے کہ میری طبیعت ایک لمبے عرصہ سے نا ساز چلی آرہی ہے جس کی وجہ سے اب میرے جسم میں ایسی طاقت نہیں کہ میں سابق دستور کے مطابق کوئی لمبی تقریر کر سکوں مگر اس لئے کہ جماعت کے دوست اس سردی کے موسم میں سخت تکلیف اٹھا کر دور دور سے تشریف لائے ہوئے ہیں میں نے مناسب سمجھا کہ میں احباب کی توجہ کے لئے چند باتیں بیان کر دوں۔مجھے 1914ء میں جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تو اس وقت جماعت کی یہ حالت تھی کہ غیر مبایعین علی الاعلان کہ رہے تھے کہ پچانوے فی صدی جماعت ان کے ساتھ ہے اور صرف ۵ فیصدی جماعت نے ابھی خلافت تسلیم کی ہے۔ان دنوں مخالفت کا ایک دریا تھا جو انڈا چلا آرہا تھا۔انجمن کا خزانہ خالی پڑا تھا اور بڑے بڑے کارکن جن کا صدر انجمن احمد یہ پر قبضہ رہ چکا تھا مجھے گرانے اور نا کام کرنے کے درپے تھے اس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کے لئے اٹھا اور اس نے دوسرے ہی ہفتہ مجھ سے وہ ٹریکٹ لکھوایا جس کا یہ عنوان تھا کہ :۔