تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 17 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 17

تاریخ احمدیت 17 جلد 21 کا کامیاب حل پیش کرتا ہے۔نماز عید کے بعد حاضرین کی چائے اور کیک سے تواضع کی گئی۔اور بعض احباب کو دوپہر کا کھانا بھی پیش کیا گیا۔شام کو اسی روز ایک اہم پروگرام میں عید کی فلم ٹیلیویژن پر دکھائی گئی۔جس میں نماز کے سب پہلو دکھائے گئے۔نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کوٹیلیویژن پر سن کر سب محظوظ ہوئے۔اس طرح شمالی جرمنی کی فضا میں اذان کے ذریعہ توحید کا اعلان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ پروگرام کثرت سے لوگوں نے دیکھا اور اس طرح مشن کی شہرت میں بفضلہ تعالیٰ معتد بہ اضافہ ہوا۔ترکی کے ایک مصنف اور جرنلسٹ ( علی رؤف آکان) نے ہمبرگ میں چند روز قیام کیا۔اور خاکسار کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی۔ترکی واپس پہنچ کر وہاں کے ایک مشہور اخبار (YEN SABAH) میں مسجد اور خاکسار کی فوٹو کے ساتھ ایک لمبا مضمون شائع کیا جس میں اس نے ہماری تبلیغی مساعی کے ثمرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔میں نے یورپ کے مختلف اسلامی مراکز اور مساجد کی زیارت کی۔لیکن جو ایمان افروز اثر ہمبرگ کی مسجد کو دیکھ کر میں نے قبول کیا۔وہ قلب سے کبھی محو نہیں ہوسکتا۔اس مسجد کے ذریعہ اسلام کی شوکت اور عظمت کو قائم کرنے کے لئے بے لوث قربانیاں کی جارہی ہیں۔اور اس کامیاب تبلیغی مساعی کا سہرا جماعت احمدیہ کے سر پر ہے۔جس کا مرکز پاکستان میں ہے۔اور جس کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہیں۔مسجد کے امام مسٹر عبد اللطیف کے دل میں اسلام کی محبت اور قربانی کے جذبہ کو محسوس کر کے مجھے بہت خوشی ہوئی اسلام کے بارہ میں لٹریچر کافی تعداد میں شائع کیا گیا ہے جس میں ایک جرمن نو مسلم ڈاکٹر ٹلٹاک کی دو کتابیں مفید اثر پیدا کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ UNITED PRESS ASSOCIATION کے ایک نمائندہ نے مسجد کے متعدد فوٹو لئے جو اسلامی ممالک میں اشاعت کے لئے بھجوائے گئے۔اسی طرح ایک عراقی جرنلسٹ انٹرویو کے لئے آیا۔اور اس نے بھی مسجد کے فوٹو لئے۔خطبات جمعہ کا سلسلہ با قاعدگی سے جاری رہا جن میں اسلامی تعلیمات اور تربیتی امور نیز رمضان المبارک کے فضائل بیان کئے جاتے رہے۔مؤرخہ 19 فروری کے خطبہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے موضوع پر وضاحت سے روشنی ڈالی۔ان خطبات میں اسلامی