تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 15
تاریخ احمدیت 15 جلد 21 لیکن اللہ کی ہستی پر پورا یقین تھا۔کہنے لگیں کہ میں نے عیسائیت سے بیزاری کے بعد بڑی تضرع سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں شروع کیں کہ مولیٰ کریم میری رہنمائی سچے دین کی طرف کر دے اس عرصہ میں بہائیوں، بدھوں اور ہندؤوں کے جلسوں میں بھی شامل ہوتی رہی لیکن کہیں بھی مجھے روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آئی۔اب کچھ عرصہ سے مجھ پر مایوسی مسلط ہوتی جارہی تھی اور قریب تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی سے بھی منکر ہو جاتی کہ آپ لوگوں کا اشتہار اخبار میں پڑھا اور نہ جانے کیوں میں اس یقین پر قائم ہوگئی کہ یہاں مجھے ضرور روشنی نظر آجائے گی۔میں نے پچھلی رات بہت دعا کی تو میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ گوہر مقصود کل کی میٹنگ میں مل جائے گا۔چنانچہ آج میں نے آپ کی تقریرسنی تو دل نے بے اختیار صداقت قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہوگی اور کہنے لگی کہ میں سمجھتی ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ میری ہدایت کے لئے کھینچ کر لایا ہے۔خاکسار نے اس کا بیعت فارم اسی وقت حضور کی خدمت میں بھجوا یا حضور نے ان کا اسلامی نام سلیمہ کرین رکھا۔۔۔اس کے بعد برائٹن میں حضور کی توجہ اور دعاؤں کی برکت سے دس بارہ افراد کی اچھی خاصی جماعت بن گئی۔جو بعد میں کچھ تو ترکی جا کر اور کچھ ملک کے دوسرے حصوں میں منتشر ہو گئے لیکن انہوں نے اپنا رابطہ مشن سے قائم رکھا۔فالحمد للہ تعالیٰ جرمنی۔ڈنمارک: جرمنی مشن نے اس سال جرمنی کے علاوہ ڈنمارک میں بھی اپنی تبلیغی سرگرمیاں تیز تر کر دیں چنانچہ چوہدری عبد اللطیف صاحب انچارج جرمنی مشن تحریر فرماتے ہیں: مورخہ 27 جنوری کو مسجد میں ہماری تبلیغی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں خاکسار نے موجودہ زمانہ میں اشاعت اسلام کے موضوع پر تقریر کی۔دوران تقریر جماعت احمدیہ کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مشنوں کے ذریعہ کامیاب تبلیغی مساعی پر روشنی ڈالی اور مستشرقین کی تقاریر اور مضامین کے حوالوں سے یہ امر ثابت کیا کہ اسلام آج دنیا بھر میں کامیاب ہے۔اور بالخصوص افریقہ میں عیسائیت کے مقابل پر اسلام کی ترقی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔عیسائی مستشرقین کے یہ حوالے حاضرین کے لئے بہت دلچپسی کا