تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 212
تاریخ احمدیت 212 جلد 21 مجھے توفیق دے کہ میں ان کا تا زندگی کامل طور پر احترام کرتا رہوں۔175 اپریل 1919 ء سے اکتوبر 1923 ء تک مسلسل یا غیر مسلسل صورت میں) آپ پہلے ناظر تالیف واشاعت اور پھر نائب ناظر اشاعت کے فرائض بجالاتے رہے۔چنانچہ اخبار الحکم 21/28اپریل 1919ء صفحہ 2 میں زیر عنوان ”دار الامان کا ہفتہ لکھا ہے: خاں صاحب محمد عبد اللہ خان صاحب ناظر تالیف واشاعت‘ صیغہ کے بہترین نظام (کو) اور زیادہ مفید اور کارآمد بنانے میں بہت منہمک ہیں۔“ 1922ء میں پہلی مجلس مشاورت منعقد ہوئی جس میں آپ نے بھی بطور ممبر شرکت فرمائی۔1923ء میں آپ نے ” صیغہ انسداد ارتداد میں نمایاں خدمات انجام دیں جیسا کہ اخبار الحکم 21/28 مئی 1923 صفحہ 8 کی مندرجہ ذیل خبر سے پتہ چلتا ہے:۔176 وو صیغہ انسداد ارتداد کا مرکزی کام حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور خان صاحب میاں عبد اللہ خاں صاحب کمال محنت اور دلسوزی سے کر رہے ہیں۔“ 1932ء میں حضرت مصلح موعود کی منشاء مبارک سے سندھ میں پانچہزار ایکڑ زمین خریدی گئی جو خصوصاً ہجرت کے بعد بے سروسامانی کی حالت میں بہت بڑی امداد ثابت ہوئیں اور جماعت کے اقتصادی نظام کومستحکم کرنے کا موجب بنیں۔اس زمین کا انتخاب ایک نہایت کٹھن اور تھکا دینے والا مرحلہ تھا جو آپ میاں عبداللہ خاں صاحب کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچا۔اس غرض کے لئے آپ کو بعض دفعہ میں چھپیں میل روزانہ اونٹ پر سفر کرنا پڑا۔آپ سلسلہ کا خرچ نہایت کفایت سے کرتے اور سادہ غذا پر قناعت کرتے۔صدرا انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹ ( یکم مئی 1932 لغایت 30 اپریل 1933 ء) کے صفحہ 131 میں لکھا ہے کہ :- خانصاحب محمد عبد اللہ خاں خلف رشید نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ خاص شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے سندھ کے متفرق علاقوں میں پھر پھر کر اسے تلاش کیا“ شروع 1933 ء میں آپ نے اپنے لئے ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ اراضی ضلع نواب شاہ میں حاصل کی لیکن حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر اس کا تبادلہ نصرت آباد والی اسٹیٹ سے کر لیا۔1940 ء میں آپ کی اسٹیٹ گورنمنٹ کی ساٹھ ہزار کی مقروض تھی۔مزید برآں اتنی بھاری رقم کا خسارہ کاٹن کی تجارت میں ہوا۔آپ نے بہت دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ