تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 192 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 192

تاریخ احمدیت 192 جلد 21 کیا اب بھی کسی عیسی کو نہ بھیجتا۔میں نے جیل سے رہا ہونے کے بعد بانی جماعت کے تمام حالات زندگی اور ان کی تمام تحریرات جو ایک بڑا دفتر ہے بہت ہی غور سے دیکھا۔مجھے تو کہیں بھی وحشت نہیں ہوئی بلکہ بعض مقامات پر تو میرے آنسو بہہ گئے کہ یہ سطور خدا کے ایک مامور ہی سے لکھے جاسکتے ہیں۔مزید برآں جلسہ سالانہ قادیان سے جو تاثر میں لے کر آیا ہوں وہ میں فراموش نہیں کر سکتا۔آپ نے بدھوں، آریہ سماجیوں، مجوسیوں، یہودیوں، گاندھی جی ٹیگور سر رادھا کشن ، اپنی بسنٹ کا ذکر فرمایا ہے کہ ان میں بھی بعض جزوی صداقتیں ہیں، خدا کے نبی تو ہر قوم میں آئے ہیں یہ لوگ ان جزوی صداقتوں کے ساتھ ایک کامل اور مرکزی صداقت یعنی رسول خدام اللہ پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔قوموں کا خون جو راہ خدا میں نہیں بہتا وہ منجمد ہو جاتی ہیں۔رہائی کے بعد خلیفہ صاحب کی خدمت میں میں نے لکھا کہ مجھے کسی ایسے مقام پر تبلیغ کے لئے دنیا کے کسی بھی حصہ میں متعین فرما دیں جہاں تبلیغ کی پاداش میں سولی دی جاتی ہو یا سنگسار کیا جاتا ہو۔حضور نے فرمایا تمہاری سر دست ہندوستان میں ضرورت ہے۔یہیں رہو۔بہر حال میں نے اپنی جان و مال راہ خدا میں اپنے خلیفہ کے سپر د کر دی ہے وہ جس طرح چاہیں کام میں لائیں۔اس حالت میں میں مر بھی جاؤں تو اللہ تعالیٰ مجھے میری نیت کا ثواب دے گا۔ایک جماعت جو تو حید خدا تعالیٰ کی قائل اور محمد رسول اللہ ہی کی عاشق، شب و روز نمازوں اور دعاؤں، شب بیداریوں اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلتے ہوئے غلبہ اسلام کے لئے خدا کے رو بروسر بسجود اور رسول خدام کے تبلیغی مشنوں کی طرح قرآن کریم کو لے کر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جاتی ہے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ جماعت کا فر و مرتد کیسے ہوگئی۔سید جعفر حسین بی اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ تربیت اولاد سے متعلق زبر دست انتباه چبوترہ سید علی شاہ علی بندہ حیدر آباد 15 اگست 1961ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جماعت احمدیہ کوز بر دست انتباہ کیا : ہم خدا کے مامور اور مرسل کے زمانہ سے دن بدن اور لحظہ لحظہ دور ہوتے جارہے ہیں اور وقت کے قرب کی زبر دست مقناطیسی طاقت سے ہر آن محروم ہورہے ہیں۔یہ وہ بھاری نقصان ہے جو آنحضرت اللہ کے زمانہ کے بعد بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔چنانچہ اسلام کی