تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 176 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 176

تاریخ احمدیت 176 جلد 21 کے صدرمملکت کو دیباچہ قرآن ( فرنچ) کی دوکا پیاں اور دیگر اسلامی لٹریچر پیش کیا۔1982ء کے آخر میں ابی جان کے مختلف احمدی گھروں میں مجالس مذاکرہ جاری کی گئیں جن میں غیر از جماعت احباب کثرت سے شامل ہوئے اور ایسی پاکیزہ مجالس کے مزید انعقاد کا مطالبہ کیا اور جماعت کی دینی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔آئیوری کوسٹ کے شمالی شہر مان MAN میں 12 تا 15 فروری 1983 ء ایک ملک گیر ثقافتی میلہ منعقد ہوا جس میں مولوی مظفر احمد صاحب منصور نے احمد یہ لٹریچر کا سٹال لگایا جسے ہزاروں افراد نے دلچسپی سے دیکھا اور میئر اور ملک کی مسلم شخصیتوں نے احمد یہ مشن کی کوششوں کو سراہا۔مارچ 1983 ء میں آئیوری کوسٹ کی "المجلس الاعلى للشئون الاسلامية “ کے صدر مسٹر موسیٰ کو مارا صاحب نے جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کے اعتراف میں احمدی مبلغین اور معلمین کو مجلس کی اعزازی رکنیت سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ احمدیوں سے بڑھ کر اور کون اسلام کی خدمت کر رہا ہے نیز کہا کہ تمام کلمہ گو مسلمان ہیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں جب یہ خوش کن رپورٹ پہنچی تو حضور نے تحریر فرمایا: الحمد للہ اس نیک سیرت انسان سے رابطہ مضبوط کیا جائے اور ھل جزاء الاحسان الا الاحسان پر عمل ہو۔“ اپریل 1983ء میں مشن کی طرف سے تین ہزار فولڈر پندرہ ہزار کی تعداد میں شائع کئے گئے۔مئی 1983 ء سے مولوی مظفر احمد صاحب منصور نے ابی جان کی سنٹرل جیل میں پیغام حق پہنچانا شروع کیا۔آپ ہر اتوار کو وہاں تقریر کرتے سوالوں کے جواب دیتے اور لٹریچر تقسیم کرتے تھے۔اس طریق سے کئی سعید روحیں حق کو قبول کرنے لگیں۔اکتوبر 1983ء میں باسم (BASSAM) قصبہ میں احمد یہ جماعت کا قیام عمل میں آیا۔یہاں مولوی عبد الرشید صاحب رازی پہلی بار دسمبر 1981ء کے آخری ہفتہ میں معلم ادریس صاحب کی معیت میں تشریف لے گئے تھے۔1983 ء ڈیڑھ سونفوس نے بیعت کی جن میں سے پچاس غیر مسلم تھے۔دسمبر میں تین طالب علم دینی تعلیم کے حصول کے لئے آئیوری کوسٹ سے ربوہ پہنچے۔یہ تینوں طالب علم ابی جان سے لیبیا اور دمشق سے ہوتے ہوئے ربوہ پہنچے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئیوری کوسٹ کا مشن ہیں سال کے بعد 84-1983ء میں مالی لحاظ سے