تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 168
تاریخ احمدیت 168 جلد 21 احمدیوں کے حو صلے بھی بلند ہوتے گئے اور وہ تبلیغ کے میدان میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگے۔قریشی صاحب نے جولائی۔اگست 1965ء میں دو تبلیغی جلسے منعقد کئے جن میں احمدی وغیر احمدی اصحاب بکثرت شامل ہوئے۔نومبر۔دسمبر 1965ء اور مئی 1966ء میں آپ نے دو اہم ٹریکٹ شائع کئے جن کی ملک کے دیگر حلقوں کے علاوہ مسلم طلباء میں خصوصی اشاعت کی گئی۔120 1966ء میں مرکز کی مدد سے ابی جان میں ایک قطعہ اراضی خریدا گیا جس پر مسجد اور مشن ہاؤس تعمیر ہوا۔اس سلسلہ میں بہت سا کام وقار عمل کی صورت میں احمدی طلبہ نے کیا۔لوکل معلمین کی تیاری مغربی افریقہ میں علماء اپنے ساتھ مستقل بنیادوں پر طالب علم رکھتے ہیں۔اس طریق کے مطابق قریشی محمد افضل صاحب نے ابتداء سے ہی تبلیغ اسلام میں کام آنے والے نوجوان ساتھ رکھے۔جن کی رہائش اور مکان مرکز کے ذمہ ہوتا تھا۔بفضلہ تعالیٰ یہ سب طلباء بہت ہی ذہین اور وفادار ثابت ہوئے۔مکرم قریشی صاحب نے انہیں لفظاً لفظاً تفسیر القرآن اور صحیحین کی کتابیں بخاری و مسلم پڑھائیں۔اور ساتھ کے ساتھ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب بھی پڑھائیں۔اور ان طلباء کو فریج پڑھنے اور بولنے کا اہل بنایا۔قریشی صاحب کے ان طلباء میں سے جلدی چار طلباء جامعہ احمد یہ ربوہ میں داخل ہو گئے اور شہادة الاجانب مکمل کر کے واپس جا کر میدان تبلیغ میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا کامیاب دورہ وسط 1966ء میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے سارے مغربی افریقہ کے احمدیہ مراکز کا تفصیلی دورہ فرمایا۔آپ کے ہمراہ مکرم میر مسعود احمد صاحب اور مکرم مولا نا بشارت احمد صاحب بشیر تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے دورہ کا اعلان لوکل فرانسیسی زبان میں شائع ہوا۔جس کے ساتھ جماعت کی خدمات اسلامیہ کی تفصیل تھی۔مکرم قریشی صاحب انچارج ٹیلی وژن اور ریڈیو والوں سے ملے۔ٹیلی وژن والوں نے بمع جملہ ساز و سامان حضرت صاحبزادہ صاحب کا انٹرویو ائر پورٹ پر لیا جو اسی شب دکھایا۔حضرت میاں صاحب کی آمد کے پیش نظر جملہ احمدی احباب سینکڑوں کی تعداد میں ائر پورٹ پر موجود تھے۔جس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ کیا یہ سب احمدی ہیں۔مکرم قریشی صاحب نے تمام احباب کا تعارف کروایا۔حضرت میاں صاحب کا قیام دو دن رہا۔ان دنوں جماعت کا مرکز