تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 166 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 166

تاریخ احمدیت 166 جلد 21 ترقی میں مقامی مبلغ الحاج محمد الغزالی صاحب کی کوششوں کا بھی بھاری عمل دخل تھا۔قریشی محمد افضل صاحب کا ورود 24 اگست 1963ء کو مرکز احمدیت سے مشن کے دوسرے مبلغ قریشی محمد افضل صاحب ابی جان میں تشریف لائے۔آپ 26 مئی 1963ء کور بوہ سے روانہ ہوئے اور 31 مئی کو لیگوس پہنچے اور چند ماہ قیام کے بعد اس ملک میں وارد ہوئے۔اور قریشی مقبول احمد صاحب کی تبلیغی، تعلیمی اور تربیتی مساعی میں آپ کا ہاتھ بٹانے لگے۔مسلم طلبہ کی رہنمائی کے لئے مدارس میں گئے اور آبی جان اور اس سے باہر BINGERVILL اور DABU وغیرہ کا تبلیغی دورہ کیا۔قریشی مقبول احمد صاحب ابتداء زیر تبلیغ احباب کو مرکز کا مطبوعہ لٹریچر دیتے تھے لیکن اس سال آپ نے مقامی طور پر چا راشتہارات بھی طبع کرائے جو ہستی باری تعالی، رمضان عید الفطر اور جمع قرآن“ سے متعلق تھے۔یہ اشتہارات 28 ستمبر 1963ء کو بکثرت تقسیم کئے گئے جبکہ اندرون ملک سے لاکھوں افراد آبی جان میں آئے ہوئے تھے۔17 نومبر 1963 ء کے تیسرے ہفتہ میں احمدیہ مشن کی طرف سے جولا اور فرنچ زبان میں قرآن کریم کے پہلے پارہ کا ترجمہ ڈپلیکیٹر مشین پر طبع ہو کر شائع ہوا جو قریشی مقبول احمد صاحب کی کوششوں کا رہین منت تھا۔فریچ ترجمہ پر سکول کے دو فرنچ ٹیچروں نے نظر ثانی کی اور جولا زبان کا ترجمہ ابی جان کے مسٹر محمد کو نزے نے کیا۔اگست تا اکتوبر 1963ء کے درمیانی عرصہ میں سولہ افراد نے احمدیت قبول کی۔119- قریشی مقبول احمد صاحب دو سال چار ماہ تک تبلیغی فرائض بجا لاتے رہے اور قریشی محمد افضل صاحب کو چارج دے کر 20 نومبر 1963ء کو عازم مرکز ہوئے اور 14 دسمبر 1963ء کور بوہ پہنچے 20۔آپ نے 24 مئی 2007ء کو انتقال کیا۔وسیع دورے، اشاعت لٹریچر اور شخصیات سے ملاقات قریشی محمد افضل صاحب نے مسلم طلباء کی کلاسز میںلیکچرز احمد یہ عربی سکول کی تعلیم خطبات اور انفرادی و اجتماعی تبلیغ کے ذریعہ احمدیہ مشن کو مزید مستحکم بنانے کی طرف خصوصی توجہ دی۔آپ کی مساعی سے جون 1964 ء تک آئیوری کوسٹ کے احمدیوں کی تعداد 99 تک جا پہنچی اور مارچ 1965 ء تک اس کے ملحقہ تین ممالک یعنی بنجر پر دولٹا اور مالی میں بھی مختلف جماعتوں کا قیام عمل میں آگیا۔121