تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 164
تاریخ احمدیت 164 جلد 21 دی۔جو عربی دان طبقہ تھا اسے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی لٹریچر پڑھنے کے لئے دیا۔ایسے اصحاب جن سے آپ کا تعارف ابی جان میں ہوا لیکن ان کی رہائش اندرون ملک تھی ان سے بھی آپ نے خط و کتابت کے ذریعہ رابطہ پیدا کر لیا اور پیغام حق پہنچایا۔1 196 ء میں آپ ملکی پریس سے روابط قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔آپ کا پہلا مضمون روز نامه ابی جان ماتین (ABIJAN MATIN) میں 20اکتوبر 1961ء کو شائع ہوا جس میں آپ نے ثابت کیا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو سائنس کے مطابق ہے اور قرآن مجید کی کوئی بات سائنس کے خلاف نہیں۔اس مضمون سے پبلک کو پہلی بار احمدیت اور احمد یہ مشن کا تعارف ہوا۔جلد ہی آپکی کوششوں کے ثمرات ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔چنانچہ اسی دوران پانچ نفوس حلقہ بگوشِ احمد بیت ہوئے۔مضمون کی اشاعت پر جہاں زائرین کی آمد میں یکا یک اضافہ ہو گیا وہاں پڑوسی ممالک میں بھی ہلچل مچ گئی۔سعید روحیں آپ کے پاس کچھی چلی آنے لگیں۔آپکو افریقی ممالک کے علاوہ لبنانی دوستوں کو بھی تبلیغ کا موقعہ ملا۔اب آپ نے ابی جان کے ماحول میں تبلیغی سرگرمیاں شروع کر دیں اور قصبہ انیا (ANYAMA) میں تشریف لے گئے اور شہر کے رئیس امام اور دوسرے معززین کو احمدیت سے روشناس کرایا۔یہاں آپ تین دفعہ گئے اور پہلی بار ایک پبلک جلسہ سے بھی خطاب کیا جس میں آپ نے اسلام کی برتری پر روشنی ڈالی جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔28 نومبر 1961 ءکو روزنامہ ” آبی جان ماتین نے جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کی نسبت ایک مضمون شائع کیا نیز ماہانہ اخبار جرنل (LE JOURNAL) کی اشاعت میں آپ کا انٹرویو چھپا۔دوسری سہ ماہی میں تیرہ مزید افراد کو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اور آئیوری کوسٹ میں ایک مخلص جماعت قائم ہوگئی۔جس کی تربیت و اصلاح کی طرف آپ نے خصوصی توجہ دینی شروع کر دی۔آپ نے انہیں مالی قربانیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی تربیتی اور تبلیغی پہلوؤں کی طرف مزید متوجہ کرنے کے لئے اجلاسوں کا سلسلہ جاری کیا اور جو قرآن مجید پڑھنا نہیں جانتے تھے انہیں پڑھانا شروع کر دیا۔قریشی صاحب کو علم ہوا کہ اٹلی کی ایک کمپنی مقدس آقا حضرت رسول کریم ہے کے بارے میں کوئی فلم پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔آپ نے آئیوری کوسٹ میں مقیم سفیر اٹلی کو توجہ دلائی تو موصوف نے جواب دیا کہ اگر کوئی کمپنی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو ہماری حکومت اسے ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں