تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 160 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 160

تاریخ احمدیت 160 جلد 21 رہے ہیں اس لئے وہاں ایک مضبوط تبلیغی سنٹر قائم کیا جائے اور مبلغ ایسا مقرر کیا جائے جو نیک اور مخلص اور زبان میں اثر رکھنے والا ہو اور علم دوست ہو اور مسیحیت کے عقائد سے بھی واقف ہو اور اسے ایک مختصری لائبریری بھی مہیا کر کے دی جائے اور اس خاص مبلغ کے علاوہ سلسلہ کے بعض دوسرے علماء بھی گرمیوں کے موسم میں گاہے گا ہے مری بھجوائے جاتے رہیں۔نیز بہتر یہ ہوگا کہ مری میں کوئی مناسب مقام یا جگہ خرید کر مستقل تبلیغی سینٹر قائم کر لیا جائے۔(ایضاً) 13۔جس اصلاحی جماعتی سزا کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے کوئی میعاد مقرر نہ کی جائے اس کے متعلق لازم چھ ماہ کا عرصہ گذرنے پر حالات کا جائزہ لے کر جیسی بھی صورت ہو حضور کی خدمت میں رپورٹ ہونی چاہئے۔(فیصلہ اجلاس 3 دسمبر 1961ء) 4۔تبرکات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے حسب ذیل کمیٹی کا قیام عمل میں آیا: 1۔ڈاکٹر کرنل عطاء اللہ صاحب (برصغیر کے مشہور کوہ پیما ) 2 - حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کپورتھلوی ایڈوکیٹ امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد 3۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد را نجمن احمد یہ پاکستان و پرنسپل تعلیم الاسلام کالج 4۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر تحریک جدیدر بوه حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب 2 ستمبر 1963ء کو انتقال کر گئے۔آپ کے بعد مکرم مرزا عبد اشتق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ ضلع سرگودھا و امیر صوبائی پنجاب نگران مقرر کئے گئے۔8 نومبر 1965ء کو خلافت ثالثہ کا آغاز ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے حکم پر یہ ضمنی ادارہ مستقل طور پرختم کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔