تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 114
تاریخ احمدیت 114 جلد 21 سافرقہ بھی ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں یعنی احمدیت کے پیروکار۔یہ ایک تبلیغی تنظیم ہے جس کا موجودہ مرکز پاکستان میں ربوہ اور بھارت میں قادیان ہے۔احمدیوں نے مغربی افریقہ میں 1920 ء کی دہائی میں نفوذ کیا۔یہ تحریک برق رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔جس میں عیسائیت اور پرانے مذاہب کے لوگ داخل ہو رہے ہیں۔احمدیوں کی ترقی کی رفتار کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ گھانا کے اندر ان کی تعداد 22,572 تھی جو پچاس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔یہ ایک منظم تبلیغی تحریک ہے جس کے پاس نہایت فعال اور بے لوث قربانی کرنے والے کارکن موجود ہیں۔جماعت اپنے افریقی نو مسلمانوں کو سیکنڈری سکول تک عمدہ تعلیمی سہولیات مہیا کرتی ہے۔اس تیز رفتار کامیابی کی بناء پر احمدیوں کو مغربی افریقہ کے دیگر ممالک میں بھی ایسی ہی ترقیات حاصل ہوئی ہیں سوائے گیمبیا کے جہاں کے شکست خوردہ اور خوفزدہ عیسائی مبلغین نے برطانوی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ احمدی مبلغ کو ہرگز داخلے کی اجازت نہ دے اور سرکاری طور پر اس انکار کی نہایت مضحکہ خیز وجہ یہ بیان کی گئی کہ گیمبیا میں پہلے ہی کافی مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں۔“ اب یہ بتانا مقصود ہے کہ گیمبیا حکومت کی مخالفت کے باوجود مولا ناسیم سیفی صاحب نے چیف ایمیگریشن آفیسر باتھرسٹ سے خط و کتابت مسلسل جاری رکھی۔نیز 15 اگست 1955ء کو گیمبیا کے ڈھائی سو معززین کی طرف سے گورنر گیمبیا کو اپنے دستخطوں سے عرضداشت پیش کی کہ احمدی مبلغ کو داخلہ کی اجازت دی جائے مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔جناب نسیم سیفی صاحب نے یہ تفصیل ایک خط کی صورت میں اخبار ویسٹ افریقہ (WEST AFRICA) مورخہ 28 جنوری 1956 ، صفحہ 4-8 میں شائع کر دی تاکسی طرح گیمبیا کے سرکاری حلقوں میں کوئی حرکت پیدا ہو جائے۔10 اس ضمن میں آپ نے دو مزید مفید اور مؤثر قدم اٹھائے۔ایک تو اس معاملہ میں برطانوی پارلیمنٹ کے بعض ممبروں سے رابطہ کی صورت پیدا کی ، دوسرے گیمبیا کی جماعتی تنظیم و تربیت اور پاکستانی مبلغ کی راہ ہموار کرنے کے لئے پہلے نائجیریا کے ایک مخلص احمدی دوست مسٹر حمزہ سینالو صاحب کو پھر غانا مشن کی طرف سے جناب جبرئیل سعید صاحب جیسے مشنری بھی گیمبیا بھیجے گئے۔چنانچہ جناب مولوی مبارک 11 احمد صاحب ساقی سابق مبلغ نائجیریا کا تحریری بیان ہے: ایک خط امام مسجد لنڈن کو لکھا گیا کہ وہ برطانیہ میں ہاؤس آف پارلیمنٹ میں یہ سوال