تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 111 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 111

111 تاریخ احمدیت البلاد العربية الاسلامية بما فيها من شعائر الاسلام المقدسة و اخيرا و ليس آخرا صرح حضرته فى احد الاجتماعات السنوية للجماعة : ان احتلال اليهود لفلسطين لهو حادث مؤقت و ان الأوضاع الراهنة لتنقلب رأسا على عقب و سیاتی علی فلسطین زمان ، ان كل حجر من احـجـارهـا سـيـنـادي المؤمن باعلى صوته ان ورائی کافر فا قتله و ان الايام التي سترث فيها الامة السلامية ارض فلسطين جد قريبة “ فان لنرجو سيادتكم ان تتناولوا هذه القضية بأسلوب حكيم يتفق و ما يقتضى الدستور من المحافظة على الحرية الدينية و الفكرية لجميع طوائف الشعب العربي۔دمتم ذخرا للعروبة و الاسلام و السلام عليكم المخلص گیمبیا مشن کا قیام داؤد احمد السيد “ جلد 21 گیمبیا (GAMBIA) افریقہ کی سب سے چھوٹی مملکت ہے۔اسے پندرھویں صدی میں پرتگالی جہاز رانوں نے دریافت کیا۔1588 میں یہ علاقہ انگریزوں نے پرتگالیوں سے خرید لیا۔1888ء میں یہ ملک برطانیہ کی کالونی بن گیا۔18 فروری 1965ء کو اسے آزادی ملی۔24 اپریل 1970 ء کو گیمبیا دولت مشترکہ کے ماتحت رہتے ہوئے جمہوریہ بنا۔اسی روز ملک میں آئین نافذ ہوا اور داؤدا کے جوارا ( SIR DAWDA K JAWARA) ملک کے پہلے صدر بنے۔1982ء کو سینی گیمبیا فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا۔22 جولائی 1944 ء کو لیفٹیننٹ سکی جامی (LT۔YAHYA JAMMEH) نے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگادی جو 15 اگست کو اٹھا لی گئی جس کے معا بعد نئے آئین کے سلسلہ میں ریفرنڈم ہوا جسمیں قریباً 70 فیصد ووٹوں سے آئین منظور کر لیا گیا اور جناب سکی جامی صاحب دوبارہ صدر مملکت ہو گئے۔اس ملک میں 84 فیصد آبادی مسلمان ہے۔شامیوں اور لبنانیوں کی ایک خاصی تعداد کے علاوہ یورپین بھی آباد ہیں۔سرکاری زبان انگریزی ہے میڈ نگا فولا ولف اور جولامشہور ملکی قبائل ہیں۔ملک میں صرف ایک شہر باتھرسٹ ہے جسے اب بانجل کہا جاتا ہے۔گیمبیا میں تحریک احمدیت کا بیج بظاہر ایک نہایت معمولی واقعہ سے بویا گیا۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ