تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 173
تاریخ احمدیت 173 جلد ۲۰ ۱۷، ۱۸ را کتوبر کی درمیانی شب بیت مبارک میں مالا بار احمد یہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا ایک تربیتی جلسہ زیر صدارت مولانا عبداللہ صاحب فاضل منعقد ہوا۔جس میں چھ نوجوانوں نے مختلف زبانوں میں علمی تقاریر کیں۔پروگرام خاصہ دلچسپ تھا۔حاضری اچھی تھی۔صدر جلسہ نے طلباء کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔انہیں زیادہ محنت اور توجہ سے حصول علم کی تلقین فرمائی تا بڑے ہو کر ( دینِ حق ) واحمدیت کے لئے مفید وجود بن سکیں۔اچھی تقریر کرنے والوں کو انعامات دیئے گئے۔اور یہ جلسہ قریباً دس بجے تک جاری رہا۔ٹھیک اسی وقت لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کے زیر اہتمام ناصرات الاحمدیہ کی ممبرات کا بھی ایک تربیتی جلسہ نصرت گرلز سکول واقع احاطه مرزا گل محمد صاحب مرحوم میں منعقد ہوا۔جس میں پندرہ سال سے کم عمر کی ممبرات نے تلاوت قرآن کریم اور تقاریر کے مقابلہ میں حصہ لیا۔اس مقابلہ میں اول اور دوم آنے والیوں کو انعامات بھی دیئے گئے۔۱۹،۱۸ را کتوبر کی درمیانی شب کو نظارت تعلیم و تربیت کے زیر اہتمام بیت مبارک میں زیر صدارت مولانا محمد سلیم صاحب فاضل ایک تربیتی جلسہ ہوا جس میں مولانا بی عبداللہ صاحب مالاباری، شیخ مبارک احمد صاحب فاضل رئيس التبليغ مشرقی افریقہ اور صاحب صدر نے تربیتی موضوع پر بصیرت افروز تقاریر کیں۔ان بزرگان نے احمدیت کی غرض و غایت ، طہارت قلب، دلنشین خدمت دینے کے لئے ایثار و قربانی ، تربیت اولاد، انابت الی اللہ کے مضامین پر نہایت دل پیرا یہ میں روشنی ڈالی۔جملہ حاضرین نے سبھی تقاریر اور مواعیظ حسنہ کو نہایت دلچسپی سے سنا۔یہ منظر بھی بڑا عجیب تھا۔مٹھی بھر افراد اللہ کے گھر میں اس بات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ ساری دنیا کو خدا کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہئے اور ان کے قلوب کو فتح کرنے کے لئے ہمیں اپنے نفوس میں کیسی کیسی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔۱۹ اکتوبر کو حیدر آباد دکن سے آنے والے قافلہ کے ساتھ حیدرآباد سے تین موصی مرحومین کی لاشیں بھی لائی گئیں۔ان میں سے ایک تو سلسلہ احمدیہ کے اولین مورخ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا تابوت تھا۔جسے مرحوم کے دونوں صاحبزادے مکرم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی اور مکرم داؤد احمد صاحب عرفانی حسب وصیت بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے ساتھ لائے تھے۔دوسرا تابوت مکرم محمد عبد اللہ صاحب بی ایس سی سیکرٹری مال حیدرآباد کے والد ماجد جناب محمد عثمان صاحب کا تھا۔جو ے جولائی ۱۹۵۷ء کو حیدرآباد میں وفات پا گئے تھے۔