تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 821
تاریخ احمدیت 821 جلد ۲۰ آپ کو احمدیت سے منحرف کرنے کے بہت جتن کئے مگر آپ کے استقلال و استقامت کے سامنے انہیں بالآ خر شرمندہ ہونا پڑا۔صوفی محمد اسحق صاحب سابق مبلغ سیرالیون کا بیان ہے کہ آپ سارے سیرالیون میں مشن کی مالی امداد کے لحاظ سے تمام احمد یوں میں ممتاز تھے۔اپنا چندہ با قاعدگی سے دیا کرتے تھے اس کے علاوہ ہر سال اپنی ہر قسم کی آمد کا حساب لگا کر اپنی تمام سال کی زکواۃ بھی مشن کو با قاعدگی سے دیتے تھے اغلباً ۱۹۵۱ء میں جب آپ کو تحریک جدید کے چندہ کی طرف توجہ دلائی گئی تو۔۔۔آپ نے تحریک جدید کا تمام چندہ یکمشت ادا کر دیا اور پھر ہر سال با قاعدگی سے اسے ادا کرتے رہے۔جس بات کے لئے سیرالیون کا مشن ہمیشہ آپ کا ممنون تھا وہ یہ ہے کہ آپ نے مشن کو کہہ دیا تھا کہ جس وقت بھی مشن کو کوئی مالی امداد درکار ہو اور اس وقت مشن میں پیسہ نہ ہو تو۔۔اتنی رقوم ان سے بطور قرضہ حسنہ لے لی جائے۔چنانچہ اس قسم کے بیسیوں مواقع پر آپ نے ہزار ہا روپیہ سے سیرالیون مشن کی مدد کی اور اگر یہ بعض رقوم آپ کو بر وقت واپس نہ مل سکیں اور بعض کسی غلطی کے باعث میرے سے ادا ہی نہ ہو سکیں لیکن اس کے باوجود آپ نے اس وعدہ کو آخری دم تک نبا ہا“ السید امین خلیل کو مبلغین سے بے پناہ محبت تھی فرمایا کرتے تھے میرا گھر مجاہدین احمدیت کے لئے وقف ہے اور اُن کی خدمت میرے لئے عین سعادت۔شروع میں آپ کی اہلیہ احمدی نہیں تھیں تا ہم وہ انہیں متواتر تبلیغ کرتے اور سمجھاتے رہے اس دوران اُن کا بیٹا علی امین سخت بیمار ہو گیا اُن کی اہلیہ ۵۰ میل دور ایک شہر مکینی (MAKENI) لے گئیں مگر وہاں بھی ڈاکٹری علاج میسر نہ آ سکا اور اس کی حالت زیادہ خراب ہو گئی اس حالت میں اُن کی اہلیہ نے دعا کی کہ اگر سید نا احمد بچے ہیں اور آپ ہی اس زمانے کے موعود مسیح ہیں تو میرے بچے کو بغیر کسی ڈاکٹر کے شفا عطا فرما دے رات کو یہ دعا کی صبح بیماری میں خاصہ افاقہ ہو گیا اور دو تین روز میں کامل صحت ہو گئی جس پر ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی یہی وہ علی امین ہیں جنہیں آپ نے ۱۹۵۲ء میں دینی تربیت کے لئے ربوہ بھجوایا تھا اور وہ کئی سال تک مرکز کی دینی برکات سے فیضیاب ہو کر وطن لوٹے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کے ذکر پر فرط محبت سے