تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 820
تاریخ <mark><mark>احمد</mark></mark>یت 820 جلد ۲۰ بڑی محنت اور سرگرمی دکھاتے تھے۔اور تبلیغ سلسلہ کا بہت شوق تھا۔۴۔۱۹۵ حکیم چراغ الدین <mark><mark>صاحب</mark></mark> والد ماجد مولوی غلام باری <mark><mark>صاحب</mark></mark> سیف استاذ الجامعه ) ( وفات ۲۴ / جون ۱۹۶۰ء )۔اصل وطن قصبہ کا ہنوان نزد قادیان جہاں صرف تین <mark><mark>احمد</mark></mark>ی گھرانے تھے <mark><mark>احمد</mark></mark>یت کے عاشق صادق تھے۔ایک بار قصبہ کے لوگ مسلح ہو کر آپ کے گھر پر حملہ آور ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور وہ ناکام رہے۔کئی دفعہ آپ کا بائیکاٹ ہوا مگر یہ حوادث و مصائب آپ کے پائے استقامت میں ذرا برابر لغزش پیدا نہ کر سکے۔ایک شب قصبہ کے ایک شخص کو نفخ شروع ہوا اور حالت غیر ہونے لگی۔اقرباء اسے آپ کے پاس بغرض علاج لائے آپ نے فرمایا بھائی میرا بائیکاٹ ہے میرے بڑے بھائی کے پاس جائیے وہ <mark><mark>احمد</mark></mark>ی نہ تھے لیکن بہت بڑے حکیم تھے ) انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں نہیں اور ہم آپ کا بائیکاٹ توڑتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے بائیکاٹ کے خاتمہ کی خود تد بیر فرمائی۔بہت مضبوط ہمت اور بلند حوصلہ کے مالک تھے۔داخل <mark><mark>احمد</mark></mark>یت ہونے کے بعد ہر جلسہ سالا نہ میں شرکت کی۔شروع وقت میں جلسہ گاہ میں پہنچتے اور پوری کا رروائی نہایت دلجمعی سے سنتے اور صرف نماز کے وقت باہر آتے ساری عمر سختی سے اس پر عمل پیرا ر ہے اور اسی کی تلقین اپنے عزیزوں کو کیا کرتے تھے۔کا ہنو ان کے ارد گرد جہاں کہیں مقامی جماعتوں کے جلسے ہوتے نہایت ذوق و شوق سے ان میں شامل ہوتے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے۔چندوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے ہجرت کے بعد چک نمبر ۶۹ / ر۔ب گھیسٹ پور ضلع لائل پور (فیصل آباد ) میں آباد ہو گئے آپ کے حُسن خلق کا غیر <mark><mark>احمد</mark></mark>ی دوستوں پر بھی ایسا گہرا اثر تھا کہ آپ کی وفات کے <mark><mark><mark>ذکر</mark></mark></mark> پر وہ اشکبار ہو جاتے تھے۔السید امین خلیل شامی ( وفات ۱۲-۱۳ ستمبر ۱۹۶۰ء) سیرالیون کے ایک نہایت مخلص فدائی اور جان نثار <mark><mark>احمد</mark></mark>ی تھے۔بانی مشن سیرالیون مولوی نذیر <mark><mark>احمد</mark></mark> علی <mark><mark>صاحب</mark></mark> کے ذریعہ سلسلہ <mark><mark>احمد</mark></mark>یہ سے دلی محبت و عقیدت پیدا ہوئی اور وقتاً فوقتاً <mark><mark>احمد</mark></mark> یہ مشن کی اعانت فرماتے رہے مگر سلسلہ سے با قاعدہ طور پر دسمبر ۱۹۴۶ء میں منسلک ہوئے اور اس کے بعد اخلاص اور قربانی وایثار کا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر پورے سیرالیون میں نہیں ملتی قبول حق کے بعد آپ کو کئی ابتلاؤں میں سے گذرنا پڑا مگر آپ نے انتہائی صبر و تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ تمام شدائد و تکالیف برداشت کیں۔مخالفیں نے