تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 808 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 808

تاریخ احمدیت 808 جلد ۲۰ علیہ السلام کا تجویز کردہ تھا۔بہت جوش کے ساتھ تقریریں کرتے رہے۔اور کہتے تھے۔ہم نے کوئی ملاں پیدا کرنے ہیں۔جنہوں نے آگے دین کا ستیا ناس کیا ہے۔جب خواجہ صاحب کا لیکچر ختم ہوا۔تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔جب حضور نے صدر کی اجازت لے کر لیکچر شروع فرمایا۔تو خواجہ صاحب کا جو اثر مجلس کے اکثر افراد پر تھا۔کا فور ہو گیا۔بلکہ جب حضور نے یہ فرمایا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنکھیں بند کرنے کے بعد ہی حضور کے ارادوں پر پانی پھیرنا شروع کر دیا گیا ہے۔تو لوگوں کی چھینیں نکل گئیں، اور مسیح موعود علیہ السلام کے فدائی زار و قطار روئے اور سب نے حضور کے ساتھ اتفاق کیا کہ مدرسہ احمدیہ ضرور ہونا چاہیئے۔پھر جب حضرت صاحب خود خلافت کے منصب پر متمکن ہوئے بندہ چھاؤنی لاہور میں موجود تھا۔ادھر حضرت مولوی صاحب کی وفات ہوئی۔ادھر ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب وغیرہ فوراً ہمارے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ بیعت میں جلدی نہ کرنی چاہیئے۔میں نے کہا۔جب خلیفہ خدا بنا تا ہے۔تو اس میں جلدی یا نہ جلدی کے کیا معنے ہوئے۔جس کو خدا خلیفہ بنائے گا۔ہم بیعت کر لینگے۔مگر آپ کے یہاں آنے سے معلوم ہوتا ہے۔کہ اگر حضرت محمود خلیفہ ہوئے۔تو آپ لوگ بیعت نہیں کرینگے۔ہاں اگر محمد علی خلیفہ ہوئے۔تو ضرور بیعت کر لینگے۔بس میرا اتنا کہنا تھا۔کہ محمد حسین شاہ صاحب سخت غصہ میں بھر گئے۔اور اٹھ کھڑے ہوئے۔کہنے لگے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں پر بدظنی کرتے ہو۔تم کو کیا معلوم ہے۔کہ ہم بیعت کر لیں گے۔کہ نہیں۔میں نے کہا۔یہاں آپ کے آنے کا کیا مطلب تھا۔بندہ ہر جلسہ پر حاضر ہوتا رہا ہے۔سوائے دو سال کے جب مجھے ملا زم ہونے کی حالت میں عدن بھیجا گیا۔بندہ نے ۱۹۳۱ء میں پنشن لے لی۔قادیان دار الامان میں مستقل طور پر آ گیا۔کیونکہ مکان ہم نے ۱۹۱۹ء میں یہاں بنا لیئے تھے۔بندہ نے آتے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھ بھیجا۔کہ میں اپنی زندگی سلسلہ کے کاموں کے لیئے وقف کرتا ہوں۔بندہ کو یہاں آتے ہی محلوں سے چندہ وصول کرنے پر لگایا گیا۔پھر سیکرٹری وصا یا مقرر کیا گیا۔پھر انسپکٹر وصایا بنایا گیا۔بعد میں با قاعدہ دفتر بہشتی مقبرہ میں کام کرنا شروع کیا۔اور دفتر والوں نے مجھے کہا۔کہ حضور نے آپ کی وقف زندگی پر خوشی کا اظہار فرمایا ہے۔آپ یہاں ہی کام کرتے رہیں۔اس کے بعد ۱۹۳۴ ء تک میں دفتر میں ہی کام کرتا رہا۔جب ۱۹۳۴ ء میں احرار کا جلسہ ہوا۔تو حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دفتر بہشتی مقبرہ سے نکال کر حضرت خلیفہ المسیح