تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 807 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 807

تاریخ احمدیت 807 جلد ۲۰ محترم سردار کرم داد خان صاحب افسر حفاظت ( ولد ولی داد خاں صاحب) ۶۵ ولادت ۱۸۷۵ء بیعت و زیارت ۱۹۰۲ ء وفات ۲۸ /اگست ۱۹۶۰ء) محترم سردار کرم داد خاں صاحب فرماتے ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیعت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا۔وہ اس طرح کہ ایک سڑک ہے۔اس پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مل کر ٹہلتے آ رہے ہیں۔بندہ سامنے سے آ رہا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) بندہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔( انگلی کا اشارہ کر کے ) کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔یہ خدا کی طرف سے ہے۔یعنی تین دفعہ حضور نے فرمایا۔جب میں نے ۱۹۰۲ء میں بمقام قادیان دارلامان میں جبکہ چھوٹی مسجد ہوا کرتی تھی۔بیعت کی تو اسی حلیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پایا پھر بیعت کے وقت میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی۔کہ میری برادری سب شیعہ ہے۔حضور دعا فرمائیں۔حضور نے فرمایا۔میں نے دعا کر دی ہے۔اب ہمارے سب رشتہ دار جو شیعہ تھے احمد کی ہو چکے ہیں ) پھر میں نے حضور کا خطبہ مسجد اقصیٰ میں سنا۔حضور نے ” یا تون من كل فج عمیق فرمایا۔اور فرمایا۔کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اور فرمایا۔تمہارے درمیان وہی مسیح بول رہا ہے۔جس کی خبر خدا نے دی تھی اور اس کے رسول نے دی تھی۔اس کے بعد پھر میں نے حضور کی زیارت ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور کی تھی۔جب حضور پر کرم دین بھین والے نے مقدمہ کر رکھا تھا۔اتنے دن ٹھہرا رہا ہوں۔جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہو گیا۔جب مجسٹریٹ نے پانچ صد روپیہ جرمانہ کیا۔خواجہ کمال الدین نے فوراً روپیہ آگے رکھدیا۔بندہ عدالت میں موجود تھا۔اس کے بعد بندہ ملازم ہو کر ہمقام شب قدر علاقہ پشاور میں تھا۔کہ حضور کے وصال کی خبر پہنچی۔بندہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کی۔درمیانی جھگڑوں کا بھی علم ہوتا رہا۔چنانچہ جب ایک مجلس بیت مبارک میں منعقد کی گئی۔بندہ اس میں حاضر تھا۔مولوی محمد علی صاحب صدر الدین صاحب، خواجہ کمال الدین وغیرہ چاہتے تھے کہ مدرسہ احمدیہ قائم نہ ہو۔جو حضرت مسیح موعود