تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 791
تاریخ احمدیت 791 جلد ۲۰ چوہدری الہی بخش صاحب چوہدری غلام بنی صاحب جیسے متدین اور عاشق رسول بزرگ شامل تھے۔ان بزرگوں کے مثالی نمونہ کو دیکھ کر آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جس شخص کے پیرو ( دین حق ) کے ایسے شیدائی اور تقوی شعار ہیں وہ خود کس پایہ کا ہو گا یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ اور رسول ہے اور اخبار الحکم میں حضور کے ملفوظات پڑھ کر تو آپ بے اختیار ہو گئے اور فوراً بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا اس وقت تک آپکے خاندان میں کوئی احمدی نہ ہوا تھا۔حضرت چوہدری صاحب اپنی بیعت اور زیارت حضرت مسیح موعود کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ” میں نے اس زمانہ میں ان لوگوں کا نیک نمونہ دیکھا اور اخبار ” الحکم“ پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ مجھے جس پیشوا کی ضرورت ہے اور جس کے لئے میں طالب علمی کے زمانہ میں دل میں دعا کرتا تھا وہ یہی شخص ہے جس کی مجھے بیعت کرنا چاہیے۔چنانچہ ۱۹۰۲ء میں ایک دن میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم سے عرض کیا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں آپ میری بیعت کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ تمہاری راجپوتوں کی قوم بہت سخت ہے شاید وہ تمہیں روکیں اور تکالیف دیگر چاہیں کہ تم بیعت چھوڑ دو۔میں نے اسی وقت کہا کہ مجھے اپنی قوم کی پروا نہیں اور نہ میں ان کی تکلیف دہی سے ڈرتا ہوں۔اگر وہ اس راہ میں مجھے جان سے بھی مار دیں تو میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے میری بیعت کا خط لکھ دیا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے دستخط سے بیعت کی منظوری کی اطلاع ملی۔خط ملنے پر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔الحمد لِلهِ ثُمَّ الحمد لله۔بیعت کی منظوری آنے کے ایک مہینے کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا کہ میں قادیان جا کر دستی بیعت بھی کرنا چاہتا ہوں مگر میں کبھی گڑھ منکر سے باہر نہیں گیا، نہ ریل کبھی دیکھی۔مجھے قادیان کا راستہ بتا دیں۔آپ نے کہا کہ یہاں سے بنگہ پہنچے وہاں میاں رحمت اللہ صاحب مرحوم باغانوالہ کی دکان پر جا کر ان سے کہنا کہ پھگواڑہ ریلوے سٹیشن تک کا یکہ کرا دیں اور ریل میں سوار ہو کر امرتسر گاڑی بدل کر بٹالہ دس بجے رات پہنچ جاؤ گے۔بٹالہ میں ٹھہرنے کی معین جگہ تو ہے نہیں سٹیشن پر یا کسی اور جگہ ٹھہر جانا۔بٹالہ سے قادیان کو کچی سڑک جاتی ہے۔نماز فجر کے بعد قادیان چلے جانا۔“ ” میں روانہ ہوا اور جب بٹالہ سٹیشن سے نکلا تو سڑک پر ایک چھوٹی سی مسجد پر نظر