تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 790
تاریخ احمدیت -11 ۱۲۔بشری بیگم صاحبہ طاہر عبداللہ صاحب ۱۳ - امتہ السلام بیگم صاحبہ 790 حضرت مولوی خیر الدین صاحب آف نارووال جلد ۲۰ ولادت اندازاً ۱۸۸۹ء ۱۹۰۳ء وفات ۱۹ رمئی ۱۹۶۰ء بعمر اے سال) حد درجہ خلیق اور ملنسار اور تہجد گزار بزرگ تھے۔دنیا وی اعتبار سے آپ کی تعلیم تیسری جماعت تک تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی توجہ روحانی نے آپ کے سینہ کو علم سے معمور کر دیا تھا۔عموماً پنجابی میں تقریر فرماتے اور قوت بیانی سے مجمع کو مسحور کر دیتے تھے۔تبلیغ کا شوق آپ کی زندگی کے ہر کام میں نمایاں نظر آتا تھا۔عمر بھر دعوت الی اللہ کے کام میں مصروف رہے اور بہت سی سعید روحوں کو آپ کے ذریعہ قبول حق کی سعادت حاصل ہوئی آپ جماعت احمدیہ کے آنریری مبلغ تھے اگر کہیں سُن پاتے کہ جماعت کا جلسہ منعقد ہو رہا ہے تو اکثر اپنے خرچ پر یا پیدل سفر کر کے جلسہ میں شرکت کرتے۔حضرت مسیح موعود اور آپ کے خاندان سے دلی انس و محبت تھی۔خدمت خلق سے خاص قلبی بشاشت محسوس کرتے تھے۔حضرت چوہدری برکت علی خان صاحب وکیل المال ( پنشنر ) ولادت ۷ - ۱۸۸۶ء اندازاً۔بیعت و زیارت ۱۹۰۲ء وفات ۷/اپریل ۱۹۶۰ء) حضرت چوہدری برکت علی صاحب گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور کے ایک راجپوت خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ کو احمدیت کا تعارف حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب آف گوڑیانی کے ذریعہ ہوا۔آپ نے ۱۹۰۰ ء میں ور نیکر مڈل کا امتحان دیا۔امتحان کے بعد آپ حضرت ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتے اور اخبار ” الحکم“ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبات در بار شام سیر کے کوائف اور تازہ الہامات باقاعدہ شائع ہوتے تھے جن کے پڑھنے سے آپ کا دل اطمینان اور تسلی سے لبریز ہو جاتا اور آپ کا جی چاہتا کہ ایسے شخص پر تو اپنا سب کچھ قربان کر دنیا چاہئے۔علاوہ ازیں گڑھ شنکر میں حضرت مسیح موعود کے فدائیوں کی ایک مخلص جماعت قائم ہو چکی تھی جس میں حضرت چوہدری امیر خاں صاحب حضرت شیخ برکت علی صاحب، حضرت حکیم