تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 785 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 785

تاریخ احمدیت 785 جلد ۲۰ ۳۵ ضروری ہیں ڈالا کامیابی ناممکن ہو جاتی ہے۔میں چونکہ ایک ایسے ملک میں جا رہا تھا۔جہاں اباحت کا دریا بہتا ہے اس لئے مجھے لوگوں نے اس قسم کے ابتلاء سے سخت ڈرایا۔اس سے مجھے سخت فکر لاحق ہوئی۔تو مجھے القاء بتلایا گیا کہ سورۃ یوسف کو بار بار پڑھنا چاہیے۔اس کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے گھبراہٹ کو دور فرما دیا اور مجھے اطمینان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قسم کے ابتلاء سے محفوظ رکھے گا۔بلکہ میں نے اپنے اندر اس قسم کی طاقت محسوس کی جس سے میرا تمام ڈر اور گھبراہٹ دور ہو گئی۔دوسری دفعہ انگلستان میں جا کر میں نے شادی کی لیکن وہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اس احساس کے ماتحت تھی کہ میری پہلی بیوی کی صحت کمزور ہے اور مجھے ان کے ساتھ اکیلا رہنے سے اُن کی زندگی ضائع ہو جانے کا خطرہ تھا اور یہ بھی خیال تھا کہ عورت کی مدد سے کام میں سہولت پیدا ہوگی والا کسی جسمانی جذبہ کے ماتحت نہ تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو حضرت چوہدری صاحب اسلامی تعلیم کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔طبیعت میں سادگی تھی، پیچ در پیچ طبیعت رکھنے والوں کو پسند نہ فرماتے صاف گو تھے جو بات حق خیال کرتے وہ بر ملا کہہ دیتے۔نہایت بلند عزائم کے حامل بزرگ تھے۔سلسلہ کے وقار کے لئے بے مثال غیرت رکھتے تھے۔سلسلہ کے جملہ خدام کو انتہائی عزت، محبت اور حترام سے دیکھتے تھے اور ان کے جذبات واحساسات کا خیال رکھتے تھے۔ظاہری ٹیپ ٹاپ سے کلیتہ عاری تھے اور سلسلہ کے تمام حلقوں میں یکساں طور پر بہت محبوب و مقبول تھے اپنے ماتحت کارکنوں کا خیال رکھنا تو آپ کا ایک نمایاں وصف تھا آپ بہت ہی وسیع القلب اور اعلیٰ خوبیوں کے مالک تھے اپنے ساتھیوں کی تکلیف سے انہیں سخت صدمہ ہوتا تھا آپ مظلوم کی امداد ایسے رنگ میں فرماتے کہ مظلوم کا ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہو بعض دفعہ ہند و یا بعض سکھ اپنے گاؤں کیغریب لوگوں پر ظلم کرتے تو آپ اس کے سد باب کے لئے خود تشریف لے جاتے۔اکثر اوقات وہ ہند و یا سکھ زمیندار آپ کی بات مان لیتے تھے لیکن اگر وہ باز نہ آتے تو آپ پورے زور سے غرباء کی مد دفرماتے اور بعض دفعہ دن رات ایک کر دیتے اور اس امداد میں مذہب وملت کی کوئی قید نہ ہوتی تھی۔آپ کا مکان اور دفتر مظلوموں کا گو یا پناہ گاہ ہوتا تھا۔حضرت چوہدری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت بہا در دل عطا فرمایا تھا اور مسلمانوں کی خدمت اور ہمدردی کا جذبہ تو آپ کے رگ و ریشہ میں رچا ہوا تھا۔جناب مولوی احمد