تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 63 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 63

تاریخ احمدیت 63 جلد ۲۰ کے گاؤں میں ہماری جماعت قائم ہو گئی ہے اور دو تین گھر احمدی ہو گئے ہیں۔ازاں سوا اور بھی ترقی ہوئی ہے اور یہاں شہر کے لوگوں کا اور بھی ہمارے ساتھ رابطہ قائم ہو گیا ہے۔اور آج کل بہت ہی اچھا ماحول ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ مخالفت کی شدت کے بعد پھر ابر باراں برسنے لگا ہے اور لوگ کھینچے چلے آ رہے ہیں۔“ اور بھی ان کی رپورٹیں آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہاں کام کرنے کے لئے کم از کم دیہات میں اپنے مراکز قائم کرنے پڑیں گے۔رو تو اتنی تیز ہے کہ اگر چاہیں تو جلد ہی ہزار بیعتیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں لیکن ہم نے حکمتاً یہ مناسب سمجھا ہے کہ ان کی خواہش کی شدت بڑھتی رہے لیکن ہم انہیں اس حد تک قبول کریں جس حد تک ہم ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔بہت زیادہ تیزی کے ساتھ داخلہ کو ابھی ہم ڈسکریج (DISCOURAGE) کررہے ہیں۔جب ہم وہاں ( انشاء اللہ ) اپنے پاؤں جمالیں گے اور پانچ نئے مراکز قائم ہو جائیں گے تو انشاء اللہ یہ رفتار پھیلنے کی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ایک اطلاع کے مطابق وہاں کے بڑے بڑے لوگ اب مل کر میٹنگیں کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ ساری کی ساری قوم ہی ( دینِ حق ) میں داخل ہو جائے۔اور احمدیت کا فیض پائے۔معلمین کے نام ایک اور خصوصی سرکلر ۳۰ ستمبر ۱۹۶۷ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد کے قلم سے معلمین وقف جدید کے نام حسب ذیل سرکلر بھیجا گیا۔بسم الله الرحمن الرحيم ۳۱۲۹/۳۰/۹/۶۷ ۵۴ نحمده و نصلى على رسوله الكريم دفتر وقف جدید انجمن احمدیہ پاکستان ربوه مکرم محمد عقیل صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ ’ وقف جدید کو آپ کی ضرورت ہے“ آپ کو معلوم ہے کہ علاقہ نگر پارکر میں اچھوت قوم کے لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔وقف جدید کو ان لوگوں میں ( دینِ حق ) پھیلانے کے لئے ایسے مخلص اور فدائی معلمین کی ضرورت