تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 779 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 779

تاریخ احمدیت 779 جلد ۲۰ نے مقابلہ ٹھانا ہوا ہے تو پھر یہ مولوی وغیرہ کیا چیز ہیں۔یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ تمام جماعت احمد یہ کہہ رہی ہے۔نذیر احمد خاں۔آپ پندرہ دن اور ٹھہر جائیں۔یہ مولوی ملا نے بوریا بستر باندھ کر خود چل دیں گے۔امیر صاحب۔ہم نے چھ مہینے انتظار کیا ہے لیکن کوئی اصلاح نہیں ہوئی کنور عبد الوہاب صاحب کے سامنے ملکانوں نے ذکر کیا کہ آپ کے ایک مولوی نے احمدیوں کو ان کے گاؤں میں نہ رہنے دیا۔ورنہ وہ لوگ ان کے زیر اثر پنجوقتہ نماز پڑھنے لگ گئے تھے۔حتی کہ بعض تہجد بھی پڑھتے تھے۔نمائندگان کا آدمی گیا۔انہیں ورغلایا اور احمد یوں کو کا فرقرار دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی وہاں سے لوٹ آئے اور وہ مولوی ایک دن بھی نہ ٹھہرا سے نماز چھوڑ دی ویسے کے ویسے رہ گئے۔امیر صاحب نے فرمایا کہ ان لوگوں کی تحریر میرے پاس موجود ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم قادیان بیعت کرتے ہیں لیکن ہم خاموش رہے۔اب بتاؤ ہم نے انہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔اسی طرح آئے دن واقعات پیش آتے رہتے ہیں مولوی چاہتے ہیں کہ کام نہ خو دکر میں نہ کرنے دیں۔آنور ایک بڑا گاؤں ہے۔چھ سو ملکا نے وہاں آباد ہیں اگر وہ واپس ہو تو بھر تیپور پر اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔دیگر دیہات متھرا پر بھی اس کا اثر ضرور پڑتا ہے۔وہاں ہمارے تین آدمی مقرر ہیں شیخ فضل حق صاحب جو بٹالہ کے رئیس ہیں اور دو اور تقع یافته آدمی اب چوتھا آدمی نمائندگان کا وہاں کیوں جائے لیکن نواب خاں وہاں گیا کہ عبدالحی صاحب نے اُسے حکم دیا کہ تم نوکر ہو وہاں ضرور جانا ہوگا۔اس نے جا کر انہیں بگاڑ اور نہ وہ واپسی کے لئے آمادہ تھے۔اس شرط پر کہ آریوں سے جو دوسو ر و پیہ مرمت چاہ کے لئے وہ لے چکے ہیں انہیں واپس دیگر رسید ہم لے لیں اور اگر وہ کوئی مقدمہ کریں تو ہم انکی امداد کریں ہم تیار تھے کہ یہ آدمی پہنچا۔ملکا نے ایک ہوشیار قوم ہے۔انہوں نے جب دیکھا کہ دو خریدار ہیں تو اب کہتے ہیں کہ ۸۰۰ دلاؤ۔ہما را چندہ صرف ہندوستان پر ہی نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک یورپ۔امریکہ۔افریقہ پر بھی صرف ہوتا ہے میں بجٹ سے ایک پیسہ زیادہ نہیں کر سکتا۔اگر ہمارا مقابلہ ہی کرنا ہے تو جاؤ پنجاب میں، بنگال میں، تمام ہندوستان میں ہما را مقابلہ کرو یہ علاقہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔یہاں ہی ہمارے ساتھ دشمنی کرنی ہے۔اگر اتحاد نہیں ہوسکتا تو دشمنی تو نہ ہو۔اگر ہم آپ کے خیال میں مسلمان نہیں تو ہم ہر دو کم از کم