تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 774 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 774

تاریخ احمدیت 774 جلد ۲۰ تھا اس کا میرے پاس کوئی علاج نہ تھا وہ حضرت مسیح موعود کا ذکر ضرورت کے وقت کرنا بھی غیر احمد یوں کیطرف سے حصول چندہ میں مانع سمجھتے تھے اور یہ خوف بھی تھا کہ اس پر ہنسی ہو گی اور میں اس کو بہت ضروری سمجھتا تھا۔دوسری مجھے یہ شکایت تھی کہکسی سے اختلاف ہے تو ہو۔اس کی تردید بھی ہو اس سے علیحد گی بھی ہوتی ہے تو ہو۔مگر کم از کم میرے سامنے اسے گالیاں تو نہ دی جائیں۔آخری بات بھی ایک حد تک قابل برداشت ہو سکتی تھی مگر پہلی بات بہت مشکلات میں ڈالنے والی تھی۔کیونکہ اس قدر بھی منظور نہیں کیا جاتا تھا کہ میں وہ کنگ سے باہر اپنے طور پر اپنے ذاتی رسوخ و کوشش سے کام لیکر اگر کہیں لیکچر دوں تو اس میں مسیح موعود کا ذکر کر دوں پھر اس کے ساتھ ہی خلافت کا جھگڑا بھی پیش آ گیا میں کہتا تھا کہ قیام خلافت سے مطلقاً انکار احمدی جماعت کی ترقی میں سخت حارج ہے۔کیونکہ بغیر ایک شخص کی ماتحتی کے نظام وحدت قائم نہیں رہ سکتا۔اور جب تک کوئی قوم نظام کے نیچے کام نہیں کرتی۔وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔۔۔آخر میں الگ ہوا اور میری مضطرا نہ دعاؤں کے جواب میں ایک صبح اللہ نے کشف کی حالت کہو یا الہام سے ممتاز کیا اور میں نے عالم بیداری میں یہ آواز زور سے سنی کہ میاں محمود کی بیعت پشاور سے لیکر بہار تک کے لوگ کر لیں گے اور پھر آواز آئی۔اللہ اکبر۔اللہ اکبر میں اس کے معنی نہیں سمجھا مگر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ غیر معمولی طور پر مجھ پر علوم کا انکشاف ہوا اور لیکچر دینے کے لئے میرا سینہ کھول دیا گیا ورنہ میرے لئے یہ بات بہت ہی مشکل بات تھی۔چار ماہ تو مجھے خط و کتابت اور رسوخ پیدا کر نے میں لگ گئے۔باقی ایک سال مجھے کام کرنے کا موقعہ ملا اور وہاں کے لوگ کام کرنے میں ایسا انہاک رکھتے ہیں کہ اتوار ہی کو کوئی لیکچر ہو سکتا ہے۔اس طرحپر ۴۸ لیکچر ہو سکتے ہیں مگر میرے ۵۴ لیکچر ہوئے کیونکہ بعض سوسائیلیوں نے مجھے لکھا کہ آپ ایک لیکچر ہفتہ کی شام کو دیں اور ایک اتوار کو۔ایک لیکچر قابل ذکر ہے جو مسئلہ الہام و وحی پر تھا جسے سنکر ایک دہریہ نے پہلے مجھے پر کچھ ٹھٹھا کیا۔مگر تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا اور وہ کہنے لگا کہ آپ کے دلائل نہایت معقول اور زبردست ہیں۔میں خدا کو نہیں مانتا تھا۔اب مانتا ہوں۔پھر اس کی استدعا پر میں نے اسے حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی بتائی۔جو ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔جب جنگ شروع ہوئی اور اخبارات میں بعینہ وہی فقرات چھپنے لگے جو میں نے حضرت اقدس کی نظم اور عبارت سے بتائے تھے تو وہ احمد پر ایمان لایا۔اور اب مخلص احمدی ہے اور پر جوش مبلغ۔پھر ایک اور لیکچر قابل ذکر ہے جس کے خاتمہ پر بوڑھا پریذیڈنٹ جو عیسائی تھا بول