تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 62 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 62

تاریخ احمدیت 62 جلد ۲۰ ہے اس لئے سادہ ترین مکان اور بیت الذکر کے لئے اور وہاں کے بعض زائد اخراجات کے لئے یہ رقم منظور کی گئی ہے وہاں فی الحال پانچ نئے مراکز کھولنے کی تجویز کی گئی ہے اور فی مرکز پانچ ہزار روپے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔اس علاقہ میں ہمارے ایک احمدی نو مسلم معلم مکرم نثار احمد صاحب راٹھور بطور انچارج مشنری کام کر رہے ہیں ویسے اس علاقہ میں اس وقت تین معلم ہیں۔مکرم نثار احمد صاحب راٹھور لکھتے ہیں کہ : - ان دنوں یہاں کام اچھا چل رہا ہے۔لوگ احمدیت و ( دین حق ) میں داخل ہورہے ہیں۔سات بیعتیں آج ارسال خدمت کر رہا ہوں۔ہمیں چھپیں بیعتیں اور بھی ہیں جو پھول پورہ سے میں بھجوا ؤں گا۔اس طرح سے بیعتوں کا سلسلہ گوٹھوں سے شروع ہے۔رشید احمد ( چتر بھیج ) کی گوٹھ کو ہلی ویری سے بھی دو تین گھر احمدی ہوئے ہیں۔گوٹھ کو ہلی ویری کے ارد گرد کافی چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں اس لئے کوہلی ویری میں بھی ایک معلم کا رہنا ضروری ہے پھول پورہ میں بھی اکیلا معلم نا کافی ہے۔کیونکہ مریض وغیرہ باہر سے کثرت سے آتے ہیں اس لئے ایک معلم تو ان میں مصروف رہتا ہے۔اور گاؤں والوں کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے۔اس لئے وہ معلم پھول پورہ چھوڑ کر باہر نزدیکی گاؤں جن میں احمدی ہوئے ہیں نہیں جاسکتا۔اس لئے پھول پورہ میں دو معلموں کی ضرورت ہے۔ایک مقامی طور پر رہے اور ایک پانچ میل کے حلقہ میں مختلف گوٹھوں میں جائے اور رات کو واپس سنٹر میں آئے۔“ حالانکہ کافی لوگ اس علاقہ کے سندھ چلے گئے ہیں لیکن احمدی ہونے کے لئے پھر بھی کافی موجود ہیں اور یدخلون في دين الله افواجا کی روچل رہی ہے رکی نہیں۔“ پھر ایک خط میں لکھتے ہیں :- وو پچھلے دنوں جو چند شرانگیز لوگوں نے طوفانِ بدتمیزی بپا کیا تھا اور ہماری مخالفت چھڑ گئی تھی اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ نے بہت ہی اچھا نکالا کہ ان ہی