تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 772
تاریخ احمدیت پر 772 جلد ۲۰ " حضرت مسیح موعود کے نام کو چھپانے سے مجھے سخت نفرت تھی اور واقعہ میں اس طریق تبلیغ میں مشکلات ہیں۔خواجہ صاحب بھی مخالفت کریں گے اور دوسرے مسلمان عام طور پر مخالفت کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے میں کام شروع کرنا چاہتا ہوں کامیابی اور نا کامی اللہ کے ہاتھ میں ہے“۔بہر کیف آپ اس بے سروسامانی میں و و کنگ کو چھوڑ کر لنڈن تشریف لے آئے اور۔ہیریڈل روڈ پاپلر واک کے اندر کرایہ کے ایک مکان میں جماعت احمدیہ کے انگلستان مشن کی بنیا د رکھی۔اس وقت جماعت احمد یہ لنڈن آپ کے علاوہ صرف چار ممبروں مشتمل بھی ا۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب۔۲۔چوہدری عبد اللہ خاں صاحب۔۔عبد العزیز صاحب سیالکوٹی۔۴۔لیلی زینب ایک نومسلمہ لیڈی۔ان دنوں جماعت کے انگریزی لٹریچر کی سخت قلت تھی۔آپ کے پاس دی ٹیچنگز آف اسلام اسلامی اصول کی فلاسفی ) اور دی میسج آف پیس ( پیغام صلح ) کی صرف چند کا پیاں تھیں جو آپ نے مختلف انگریزوں کو پڑھنے کے لئے دیں۔بعد ازاں قادیان سے رساله ریویو آف ریلیجنز‘ انگریزی کی چند کا پیاں بھی آنی شروع ہو گئیں جن سے علمی طبقہ تک آہستہ آہستہ احمدیت کی آواز پہنچنے لگی۔تبلیغ کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ آپ کے وہ فاضلا نہ لیکچر تھے جو آپ نے انگلستان کی مختلف سوسائیٹیوں اور کلبوں میں ان کے اخراجات پر انہی کے مراکز میں جا کر دئے۔اس سلسلہ میں آپ نے بڑی محنت سے ۱۴ لیکچر تیار کئے جن میں سے بعض کے عنوانات یہ تھے ا۔اسلام ۲۔سلسلہ احمدیہ اور اسلام ۳۔الہام ۴۔ایمانی ترقی کے مدارج ۵۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات ۶۔قرآن شریف کی عبارت اور تعلیم پر بحث اور چند آیتوں کی تفسیرے مسیح ہندوستان میں ۸۔یہودیوں کی گم شدہ اقوام وغیرہ 1۔یہ سب لیکچر آپ نے طبع کرا کے ملک بھر کی مشہو رسوسائیٹیوں کو بھجوا دئے۔پہلی جنگ کے باعث ہر طرف ابتری سی پھیلی ہوئی تھی بایں ہمہ ملک کی متعد دسوسائیٹیوں نے غیر معمولی دلچسپی کا ثبوت دیا اور آپ کو اپنے پلیٹ فارم پر تبلیغ کے بہترین مواقع فراہم کئے۔آپ کا سب سے پہلا کامیاب لیکچر الہام پر فوکسٹن میں ہوا جسے خدا نے بہت قبولیت بخشی جس کے بعد آپ نے فلہم لائبریری، تھیو سافی ہال ایسٹ پیریڈ تھیو سافیکل سو سائیٹی کے مرکز اور ساؤتھ ہی اور برمنگھم میں لیکچر دئے اور ان کی خبریں اخبار