تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 771
تاریخ احمدیت 771 جلد ۲۰ رکھا تھا یہ نظریہ آپ کی طر ز تبلیغ میں سب سے بڑی روک بننے لگا کہ اسی دوران سید نا حضرت خلیفہ اول مولانا نورالدین کا وصال ہو گیا اور آپ جماعت مبائعین میں شامل ہو گئے اور اس سلسلہ میں و و کنگ سے ۲۷ / مارچ ۱۹۱۴ ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب لکھا " بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب حضرت میا نصا حب محمدہ ونصلی ( علی رسولہ الکریم ) السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ مولوی شیر علی صاحب کی ایک تار میرے نام آئی تھی۔کہ جناب کو جماعت احمد یہ نے خلیفہ اصبح تجویز کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس انتخاب کو مبارک کرے اور تمام جماعت کے لئے بھی مبارک کرے۔میں بھی جناب کو خلیفہ مانتا ہوں۔اور یہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ اپنی عقیدت دلی کا اظہار کروں۔میری اپنی حالت یہ ہے کہ مہینہ کے قریب بالکل آرام رہا۔ایک ہفتہ سے نیوریلجیہ سے تکلیف ہے۔اور اس سے آنکھوں کو بھی تکلیف ہو گئی ہے۔تا ہم میرا اپنا یہی خیال ہے کہ عارضی بات ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائیگا۔لیکن حضور کی طرف سے میرے خطوط کا کوئی جواب نہیں آیا۔اس لئے حیران ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ جناب کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی۔آئندہ میں جناب کے لئے۔تکلیف کا باعث نہیں ہونا چاہتا۔جہاں تک روپے کا معاملہ یا خرچ کا سوال ہے۔میں خواجہ صاحب سے کسی قسم کا تعلق رکھنا پسند نہیں کرتا ہوں۔اور نہ ہی میں ان کی نوکری کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے میرا اپنا خیال یہی ہے کہ اپریل یا مئی میں یہاں سے واپس آ جاؤں۔غالب امید ہے کہ خواجہ صاحب واپسی کے لئے روپیہ بطور قرضہ دیدینگے۔اس لئے جناب تکلیف نہ فرما ئیں۔پادری وا ئینوسخٹ نے یہاں دو کنگ میں پہنچ کر ہمارے برخلاف لیکچر دئے تھے۔اس کے لیکچروں کے جواب میں میں نے دو خط یہاں کے دو لوکل اخبارات میں شائع کروائے ہیں۔ان میں ایک اس خط کے ساتھ بند کرتا ہوں۔دعا کی سخت ضرورت ہے خاص کر آنکھوں کی صحت کے لئے۔والسلام را قم خاکسار فتح محمد از و و کنگ مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۱۴ء ازاں بعد تحریر کیا کہ