تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 770 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 770

تاریخ احمدیت 770 جلد ۲۰ ہے اور اس کے سامنے ایک بہت بڑا چشمہ نہایت ہی شفاف پانی کا بہہ رہا ہے جو اتنی تیزی سے بہہ رہا ہے کہ تیزی کی وجہ سے اس میں لہر اور تموج پیدا کرتا ہے اور حضوڑ اس تخت پر چوکڑی مار کر بیٹھے ہیں۔۔۔حضور نہایت ہی رقت سے اور وجد کی حالت میں فارسی کے کچھ اشعار پڑھ رہے ہیں جن میں یہ شعر بھی ہے۔ایں چشمہ رواں کہ خلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است۔۔۔۔۔اس وقت میرے دل میں گویا یہ احساس ہے کہ حضور اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کے عشق میں یہ شعر پڑھ رہے ہیں اور آپ سچے ہیں۔چہرہ نہایت نورانی ہے پھر ایسا ہوا کہ میں نے جون ۱۸۹۹ء میں قادیان جا کر بیعت کی۔میرے والد صاحبنے مجھے بھیجا تھا اس موقعہ پر حضرت مرزا مبارک احمد صاحب کا عقیقہ بھی تھا۔قادیان میں میں کئی دن رہا اور حضور کے ساتھ کھانا کھایا اور مجھے ایسا موقعہ مل گیا کہ گول کمرہ میں حضور مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔ایک دن میں ایسی جگہ بیٹھا کہ میرے اور حضور کے درمیان کوئی اور شخص نہیں تھا مستقل طور پر میں ۱۹۰۰ ء کے دسمبر میں قادیان چلا گیا تھا اور وہاں سکول میں داخل ہو گیا تھا۔“ آپ اُن دنوں پانچویں جماعت میں تھے۔آپ نے میٹرک تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے کیا بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پھر علیگڑھ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ابھی آپ ایف اے میں تھے کہ سید نا حضرت مسیح موعود نے ستمبر ۱۹۰۷ ء میں وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔اس تحریک پر جن خوش نصیب جوانوں کو لبیک کہنے کی توفیق ملی ان میں آپ بھی شامل تھے۔جب آپ کی درخواست حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوئی تو حضور نے آپ کا وقف قبول فرما لیا۔اور آپ ایم اے پاس کرنے کے بعد قادیان میں مستقل طور پر ہجرت کر کے آ گئے۔وسط ۱۹۱۳ء میں حضرت خلیفہ امسیح الاوّل نے آپ کو خواجہ کمال الدین صاحب کی امداد کیلئے دو کنگ (انگلستان ) بھجوایا آپ ۲۵ / جولائی ۱۹۱۳ء کو لنڈن پہنچے اور خواجہ صاحب کے ساتھ تبلیغی جد و جہد کا آغاز کر دیا۔جناب خواجہ صاحب غیر احمدیوں کے چندہ اور امداد کے طلب گار تھے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود کے ذکر کو سم قاتل قرار دے