تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 61 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 61

تاریخ احمدیت 61 جلد ۲۰ ۱۹۷۷ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے اطفال، ناصرات اور کم عمر بچگان کو دفتر اطفال وقف جدید کے لئے معاونین خصوصی بنانے کی تجویز ہوئی جس میں شمولیت کے لئے کم از کم ۲۵ روپے یا ۵۰ روپے یا ۱۰۰ روپے یا ان سے زائد سالانہ ادا ئیگی کی شرط رکھی گئی اس تجویز کو اول نمبر پر عملی جامہ پہنانے کا شرف مجلس خدام الاحمد یہ لا ہور کو حاصل ہوا جس نے ایک ہفتہ کے اندر اندر ۱۶۵ اطفال ، ناصرات اور کم عمر بچگان سے مبلغ ۱۸۲۲۷ روپے کی رقم خطیر وصول کر کے اپنے محبوب آقا کے حضور پیش کر کے ایک قابل تقلید مثال قائم کی جس کے بعد کراچی ، ربوہ ، فیصل آباد اور دوسری احمدی جماعتوں کے بچوں میں بھی مسابقت کی زبر دست روح پیدا ہو گئی اور ننھے معاونین خصوصی کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا گیا۔جیسا کہ وقف جدید کے ۱۹۷۸ء اور بعد کے میزانیہ سے ثابت ہے۔میزانیہ وقف جدید ۸۱-۱۹۸۰ء کے مطابق ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۹ ء تک کے چندہ دفتر اطفال کا گوشوارہ یہ ہے۔۱۹۶۶ء ۳،۳۶۵ ۵۱ ۱۹۶۷ء ۱۷،۵۳۱ ۱۹۶۹ء ۲۲،۳۶۵ ۱۹۷۰ء ۲۴،۱۸۶ ١٩٦٨ء ١٩،٣٧٧ ۱۹۷۱ء ۲۱،۶۱۳ ۱۹۷۲ء ۲۲،۱۱۳ ۱۹۷۳ء ۲۴،۷۹۴ ۱۹۷۵ء ۳۶،۲۵۶ ۱۹۷۶ء ۵۶،۲۵۸ ۱۹۷۴ء ۳۲۲۴۵ ۱۹۷۷ء ۹۰۷، ۱،۶۳ 1۔17۔22A 8192A ۱۹۷۹ ء ۵۲۱،۲۳،۲۰۰ ١٩٨٠ء ۵۳۱،۲۵،۵۰۳ ہندوؤں کے علاقہ میں تبلیغی مراکز کا ذکر مجلس مشاورت ۱۹۶۷ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد نے مجلس مشاورت ۱۹۶۷ء میں بتایا کہ : - عام علاقوں میں جہاں خدا کے فضل سے احمدی جماعتیں قائم ہیں و, وہاں وقف جدید کو قیامِ مرکز کے سلسلہ میں بہت کم خرچ کرنا پڑتا ہے۔بلکہ اکثر اوقات تو کرنا ہی نہیں پڑتا۔کیونکہ لوگ گھر پیش کر دیتے ہیں۔لیکن بعض اوقات خرچ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے قیامِ مراکز کی ایک مد ہے اس میں پانچ ہزار روپیہ سالانہ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔لیکن وہاں حالات مختلف ہیں۔ہندوؤں کا نیا علاقہ ہے اس میں جہاں بھی ہم نے مرکز قائم کیا ہے وہاں وقف جدید کو اپنی جائیداد بنانی پڑی ہے مکان خود بنوانا پڑا ہے اور حالات ایسے ہیں کہ بہت زیادہ مزدوری اٹھتی ہے اور سامان بھی باہر سے منگوانا پڑتا