تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 759
تاریخ احمدیت 759 جلد ۲۰ پیدا کر نیکی تو فیق عطا فرمائے۔اب میں دعا کروں گا سب دوست میرے ساتھ مل کر دعا کر لیں۔۲۴ اختتامی خطاب حضور نا سازی طبع کے باعث ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۶۰ء کی اختتامی تقریر / کیلئے بنفس نفیس تشریف نہ لا سکے۔اس لئے حضور کی مندرجہ ذیل ایمان افروز تقریر حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنائی۔وا۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کو پھر اس مقدس اجتماع میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔جو اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے ۱۸۹۱ ء میں حضرت مسیح موعود نے قائم فرمایا تھا۔سب سے پہلا جلسہ جو حضرت سیح موعود کے زمانہ میں ہوا اس میں صرف ۷۵ آدمی شریک ہوئے تھے۔اور آخری جلسہ جو ۱۹۰۷ ء میں حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہوا اس میں ۷۰۰ افراد شریک ہوئے تھے۔لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعدا دستر استی ہزار تک پہنچ چکی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تعداد انشاء اللہ بڑھتی چلی جائے گی اور قیامت تک اسلام اور احمدیت کا جھنڈا ہماری جماعت کے افراد کے ذریعہ دنیا کے تمام ملکوں میں بلند ہوتا رہے گا۔یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے سپر د ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنی اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم پھیلانی ہے اور ہم نے ساری دنیا میں اور ہمیشہ کیلئے نیکی اور تقویٰ کی روح کو قائم کرنا ہے اور یہ کام بغیر ایک لمبی اور مستقل جد و جہد کے انجام نہیں دیا جا سکتا۔پس ضروری ہے کہ ہمارا ہر فرد اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس پر عائد ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے۔اور اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں صرف کرے۔تا کہ جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو اس کا سر اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی بنا پر ندامت اور شرمندگی سے نیچا نہ ہو بلکہ وہ فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ میں نے۔اپنے اس فرض کو ادا کر دیا ہے جو مجھ پر اپنے رب کی طرف سے عائد کیا گیا تھا۔ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنے فرائض کو ادا کرنے کا اپنے اندر اس قدرا حساس رکھتے تھے کہ ایک دفعہ جب رسول کریم نے عیسائیوں کے مقابلہ کیلئے شام کی طرف اپنا لشکر روانہ فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ میں زید بن حارثہؓ کو اس لشکر کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں۔لیکن