تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 56
تاریخ احمدیت متوجہ کریں۔فرض ہے۔56 جلد ۲۰ ۱۔معلمین خدمت دین کے ساتھ ساتھ لوگوں کو شہریت کے حقوق وفرائض کی طرف بھی ۲ - وطن کی طرف سے ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں ادا کرنا ہمارا مذہبی کوشش کی جائے کہ آئندہ سال ڈیڑھ سال میں جماعت کا ہر بچہ قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے قابل ہو جائے۔۴- جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ہم کوئی دینی یا دنیاوی کام نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیں ہر وقت دعا میں لگا رہنا چاہئے۔تحر یک وقف جدید شاعر احمدیت کی نظر میں تحریک وقف جدید اپنی خدمات اور تحریک کارناموں کی بدولت جماعت احمدیہ کے ہر طبقہ میں بڑی تیزی کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی تھی اور نہ صرف نثر بلکہ شعر وسخن کی زبان میں اسے خراج تحسین ادا کیا جارہا تھا چنانچہ فروری ۱۹۶۶ء میں سلسلہ احمدیہ کے بلند پایہ شاعر جناب عبدالمنان صاحب ناہید نے حسب ذیل الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کیا :- رواں رہے یہ تیرا کاروانِ وقف جدید ں نے کی تھی بیاں داستانِ وقف جدید ہوئے ملائکہ بھی نغمہ خوانِ وقف جدید مجھے پیام ملا ہے کہ میرزا طاہر یہ چاہتے ہیں کروں میں بیانِ وقف جدید دل و دماغ کی کم مائیگی پہ نادم ہوں کہاں میں اور کہاں ارمغانِ وقف جدید مجھے یہ تاب کہاں ہے کہ ڈھونڈ کر لاؤں وہ نغمہ جو کہ ہے شایانِ شان وقف جدید کبھی جو مامن تحریک قادیان ہوا تو آج ربوہ ہے دارالامان وقف جدید وہی کہ جس نے لگایا تھا گلشن ”تحریک“ وہ باغباں ہی تو تھا باغبانِ وقف جدید وطن کے کھیت ہوں سیراب اس کے پانی سے چلی ہے ان میں بھی جوئے روانِ وقف جدید قدم قدم پر بنائے نئے جہاں ہم نے انہی جہانوں میں ہے اک جہانِ وقف جدید اس ارضِ پاک کے دیہات کو مبارک ہو نئی زمیں نیا آسمان وقف جدید دلوں میں جذبہ خدمت لبوں پہ پیار کے گیت یہی ہے دولت وارفتگان وقف جدید سپاہ مہدی معہود میں ہوا شامل متاع زیست لئے ہر جوان وقف جدید