تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 703 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 703

تاریخ احمدیت 703 جلد ۲۰ الفاظ میں بیان کیا کہ :۔یعنی مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ایک چھوٹا سا احمدی فرقہ ہم سے کہیں زیادہ غیر ممالک میں تبلیغ کر رہا ہے۔اور دریافت کیا گیا کہ ہم غیر ممالک میں پر چار کیوں نہیں کر سکتے۔جواب میں سبب عرض ہے کہ انہیں اپنے مذہب کی ترقی کا لگن ہے۔جو ہمیں نہیں۔وہ غیروں کو حیران کن محبت سے اپنا بنا لیتے ہیں۔اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنوں سے نفرت کرتے ہیں۔اور انہیں دھتکارتے ہیں۔“ ( ترجمه از گورمت پر کاش ستمبر ۱۹۶۰ء) جرمنی میں احمد یہ مشن کے کارناموں اور خدمات احمدیت کا ذکر جرمن فیڈرل کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی اور جرمن حکومت کے بلیٹن میں پریس میں اب اشاعت اسلام سے متعلق مضامین بکثرت شائع ہو رہے تھے چنانچہ اسی سال جرمن کے ایک بااثر اور کثیر الاشاعت اخبار ” نیو رہین زیٹنگ‘ NEUE RHEIN) (ZEITUNG میں ایک خاص مضمون مسجد همبرگ و مسجد فرینکفورٹ پر شائع ہوا جو ایک جرمن احمدی جرنلسٹ مسٹر عبد اللہ نے لکھا تھا۔یہ مضمون دوبارہ جرمن فیڈ رل حکومت کے پر لیس اور انفارمیشن کے بلیٹن (اار اکتوبر ۱۹۶۰ ء ) نے حسب ذیل نوٹ کے ساتھ سپر دا شاعت کیا ( ترجمہ ) آزادی عقیدہ اور آزادی ضمیر نا قابل انفاخ ہیں۔ہر ایک کو بلا مداخلت مذہبی اعمال بجالانے کی ضمانت دی جاتی ہے۔“ اوپر کے الفاظ مغربی جرمنی کے بنیادی قانون کی دفعہ چار سے لئے گئے ہیں۔یہ الفاظ آج مغربی جرمنی کے مذہبی معاملات میں عالمگیر سلوک کے گویا کونے کا پتھر ہیں۔خاص دار الحکومت اور بڑے شہروں میں جہاں دیگر ممالک کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔جرمن عوام دوسروں کے مذاہب میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔اس کی زندہ مثال وہ مہمان نوازانہ خیر مقدم ہے جو مغربی جرمنی نے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد اسلام کا کیا ہے۔ذیل کا مضمون جو محمد عبد اللہ رکن اسلامیہ جرمنی مشن کا لکھا ہوا ہے حال ہی میں جرمنی کے اخبار نیو ر ہین زیٹنگ میں شائع ہوا ہے۔جو کافی وسیع اشاعت رکھتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ آرچ بشپ رک آف کولون کے اخبار میں بیان کیا گیا تھا کہ ۸۰۰ جرمنوں نے اسلام اختیار کر لیا ہے اور وہ جماعت احمدیہ کے ارکان بن گئے ہیں