تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 645
تاریخ احمدیت 645 جلد ۲۰ نہیں کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو کیا کہا بلکہ صرف یہ کہ کیا کیا۔اور یہ اتنی بڑی بات ہے۔کہ اس کے پیش نظر ( قطع نظر روایات واصطلاحات سے ) میرزا صاحب کو حق پہنچتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مہدی کہیں کیونکہ وہ ہدایت یافتہ تھے، مثیل مسیح کہیں۔کیونکہ وہ روحانی امراض کے معالج تھے، اور ظل بنی کہیں کیونکہ وہ رسول کے قدم بہ قدم چلتے تھے۔۔اب رہا یہ امر کہ غیر احمدی لوگوں میں وہ رشتہ مصاہرت قائم نہیں کرتے اور ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔تو اس پر کسی کو کیوں اعتراض ہو۔کیا آپ کسی ایسے خاندان میں شادی کرنا گوارا کریں گے جس کے افراد آپ کے مسلک کے مخالف ہیں اور کیا آپ ان ۲:۔لوگوں کی اقتداء کریں گے جو اپنے کردار کے لحاظ سے مقتدا بننے کے اہل نہیں ہیں۔احمدی جماعت کا ایک خاص اُصولِ زندگی ہے۔جس پر ان کے مردان کے بچے اور ان کی عورتیں سب یکساں کار بند ہیں۔اس لئے اگر وہ کسی غیر احمدی مرد یا عورت سے رشتہ زدواج قائم کریں گے تو ان کی اجتماعیت یقیناً اس سے متاثر ہوگی اور وہ یکرنگی و ہم آہنگی جو اس جماعت کی خصوصیت کا خاصہ ہے ختم ہو جائے گی۔آپ اس کو تعصب کہتے ہیں اور میں اس کو اعتصام وفر است تدبیر۔رہی برقی صاحب کی کتاب۔سو اس کے متعلق اس سے زیادہ کیا کہوں کہ جس حد تک بائی احمدیت کی زندگی و تعلیم احمدیت کا تعلق ہے وہ تلبیس و کتمان حقیقت کے سوا کچھ نہیں۔اور مجھے سخت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ احمدیت کے مخالفین میرزاغلام احمد صاحب سے بہت سی ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو انہوں نے کبھی نہیں کہیں۔خصوصیت کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کہ عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ میرزا صاحب رسول اللہ کو خاتم النبیین نہیں سمجھتے تھے، حالانکہ وہ شدت سے اس کے قائل تھے کہ شرعی نبوت ہمیشہ کے لئے رسول اللہ پر ختم ہو گئی۔اور شریعت اسلام دنیا کی آخری شریعت ہے۔