تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 636
تاریخ احمدیت 636 جلد ۲۰ پھر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے وہ کیا بات ہے جس نے انہیں یہ سوجھ بوجھ عطا کی اس کا جواب ابھری ہوئی جماعتوں کی تاریخ میں ہم کو صرف ایک ہی ملتا ہے۔اور وہ عظمتِ کردار! بلندی اخلاق ! اس وقت مسلمانوں میں ان کو کا فرو بے دین کہنے والے تو بہت ہیں لیکن مجھے تو آج ان مدعیانِ اسلام کی جماعتوں میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو اپنی پاکیزہ معاشرت اپنے اسلامی رکھ رکھاؤ اپنی تاب مقاومت اور خوئے صبر و استقامت میں احمدیوں کے خاک پا کو بھی پہونچتی ہو! ع این آتش نیرنگ ته سوز و همه کس را یہ امر مخفی نہیں کہ تحریک احمدیت کی تاریخ ۱۸۸۹ ء سے شروع ہوتی ہے۔جس کو کم و بیش ستر سال سے زیادہ زمانہ نہیں گذرا، لیکن اسی قلیل مدت میں اس نے اتنی وسعت اختیار کر لی کہ آج لاکھوں نفوس اس سے وابستہ نظر آتے ہیں۔اور دنیا کا کوئی دور و دراز گوشہ ایسا نہیں جہاں یہ مردانِ خدا اسلام کی صحیح تعلیم انسانیت پرستی کی نشر واشاعت میں مصروف نہ ہوں۔آپ کو یہ سُن کر حیرت ہو گی کہ جب بانی احمدیت کی رحلت کے بعد ۱۹۳۴ء میں موجودہ امیر جماعت نے تحریک جدید کا آغا ز کیا تو اس کا بجٹ صرف ۲۷ ہزار کا تھا لیکن ۲۵ سال کے بعد وہ ہیں لاکھ ۸۰ ہزار تک پہونچ گیا۔جو انتہائی احتیاط ونظم کیسا تھ ، تعلیمات اسلامی پر صرف ہورہا ہے اور جب قادیان در بوہ میں صدائے اللہ اکبر بلند ہوتی ہے تو ٹھیک اسی وقت یورپ، افریقہ وایشیا کے ان بعید و تاریک گوشوں کی مسجدوں سے بھی یہی آواز بلند ہوتی ہے، جہاں سینکڑوں غریب الدیار احمدی خدا کی راہ میں دلیرا نہ آگے قدم بڑھائے ہوئے چلے جا ر ہے ہیں۔باور کیجئے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ با وجود ان عظیم خدمات کے بھی اس بے ہمہ و با ہمہ جماعت کو بُرا کہا جاتا ہے تو مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے اور مسلمانوں کی اس بے بصری پر حیرت ہوتی ہے۔مہیں حقیر گدایان عشق را کاین قوم شہانِ بے کر و خسرو ان بے گلہ اند جب سے میں نے طریق احمدیت پر اظہار خیال شروع کیا ہے۔عجیب و غریب