تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 635 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 635

تاریخ احمدیت 635 جلد ۲۰ پہونچا تو ایک سے زائد بار مجھے ان کو زیادہ قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ مل گیا۔سب سے پہلی چیز جسے میں نے تین طور پر محسوس کیا ان کی متانت وسنجید گی تھی ان کے ہنتے ہوئے چہرے ان کے بشاش قیافے اور ان کی بوئے خوشد لی تھی۔دوسری بات جسنے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا یہ تھی کہ انہوں نے دوران گفتگو میں مجھ سے کوئی تبلیغی گفتگو نہیں کی۔کبھی کوئی ذکر تعلیم احمدیت کا نہیں چھیڑا۔جو یقیناً مجھے پسند نہ آتا۔میرا مقصود ایک خاموش نفسیاتی مطالعہ کرنا تھا۔اور یہ آج کی انتہائی ادا شناسی تھی کہ دعوتوں، عصرانوں میں انہوں نے مجھے اس مطالعہ کا پورا موقعہ دیا۔اور کوئی بات ایسی نہیں چھیڑی کہ معاملہ نگاہ سے ہٹ کر زبان تک پہو نچتا اور میر از اویہ نظر بدل جاتا۔اس کا علم تو مجھے تھا کہ احمدی جماعت بڑی با عمل جماعت ہے لیکن یہ علم زیادہ سماعی و کتابی تھا۔اور میں کبھی اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ اُن کی زندگی کی بنیاد ہی سعی و عمل پر قائم ہے۔اور جد و جہد ان کا قومی شعار بن گیا ہے۔اس سے ہر شخص واقف ہے کہ وہ ایک مشنری جماعت ہے اور ایک خاص مقصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھتی ہے اور ایسے ناقابل شکست عزم وحوصلہ کے ساتھ کہ تاریخ اسلام میں اس کی مثال قرون اولیٰ کے بعد کہیں نہیں ملتی۔میں حیران رہ گیا یہ معلوم کر کے کہ ان کے دو شفا خانے جو انہوں نے یہیں کراچی کی دو غریب آبادیوں میں قائم کئے ہیں۔محض ان کے چند نوجوان افراد کی کوشش کا نتیجہ ہیں۔جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی بنیاد کھو دی۔ان کی دیواریں اٹھا ئیں۔ان کی چھتیں استوار کیں۔ان کا فرنیچر تیار کیا۔اور اب صورت حال یہ ہے کہ ان شفاخانوں سے روزانہ سینکڑوں غرباء کو نہ صرف دوا ئیں بلکہ طبی غذا ئیں بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں اور عوام کی ذہنی تربیت کے لئے ریڈنگ روم اور کتب خانے بھی قائم ہیں۔دل شکسته دران کوچه می کنند درست چنانکه خود نشناسی که از کجا بشکست کراچی اور لاہور میں اس جماعت کے افراد پانچ پانچ ہزار سے زیادہ نہیں لیکن اپنی گراں مانگی مستقبل کے لحاظ سے وہ ایک بنیان مرصوص‘ نا قابل تزلزل ایک حصار آہنی ہیں نا قابل تسخیر ! اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اس اسوۂ حسنہ“ کی جس کا ذکر محراب و منبر پر تو اکثر سنا جاتا ہے لیکن دیکھا کہیں نہیں جاتا۔