تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 634 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 634

تاریخ احمدیت 634 جلد ۲۰ ۵۳ شخص جو سٹالن کے بعد روس کا مسلمہ رہنما تھا۔۱۵ / اکتو بر ۱۹۶۴ء کو کمیونسٹ پارٹی کے عدم اعتماد کی بناء پر معزول کر دیا گیا اور سات سال تک گوشہ گمنامی میں رہنے کے بعد 11 ستمبر ۱۹۷۱ ء کو چل بسا اور کریملن میں ماسکو کے ایک عام قبرستان میں دفن کیا گیا۔اٹھارہ سال بعد ۹ / نومبر ۱۹۸۹ ء کو برلن دیوار کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور نہ صرف مشرقی جرمنی بلکہ مشرقی یورپ کے سب اشترا کی ممالک روس کی استبدادی زنجیروں کو تو ڑ کر آزاد ہوئے۔روسی صدر گوربا چوف ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء کو کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے۔روسی کمیونسٹ پارٹی توڑ دی گئی اور ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۱ ء کو ماسکو شہر کی کونسل نے شہر سے اشترا کی انقلاب کے بانی لینن کا مجسمہ ہٹانے کا اعلان کر دیا۔علامہ نیا فیچوری کا سفر پاکستان اور علامہ نیا تیموری صاحب ایڈیٹر ماہنامہ فتحپوری نگار لکھنو امسال مئی کے اوائل میں جماعت احمدیہ کا قریبی مطالعہ پاکستان تشریف لائے۔جہاں آپ نے وسط جون تک قیام فرمایا اُس دوران میں آپ با وجود خواہش کے ربوہ تشریف نہ لا سکے۔لیکن لاہور اور کراچی میں آپ کو احمدی احباب سے ملنے اور جماعت احمدیہ کا قریب سے مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔آپ نے واپس جا کر نگار بابت جولائی ۱۹۶۰ء میں اپنے سفر پاکستان کے حالات سپرد قلم فرمائے۔جس میں آپ نے احمدی جماعت کا قریب تر مطالعہ“ کے ذیلی عنوان کے تحت جماعت کی عظمتِ کردار اور بلندی اخلاق کے بارہ میں اپنے قلبی تاثرات کا بھی ذکر فرمایا جو درج ذیل کئے جاتے ہیں۔وو دد لکھنو سے چلتے وقت ایک ذہنی یا جذباتی احمدی جماعت کا قریب تر مطالعہ پروگرام میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس سفر کے دوران میں اگر قادیان نہیں تو ربوہ ضرور دیکھونگا جو سنا ہے کسی وقت وادی غیر ذی زرع تھا اور اب احمدی مجاہدین نے اسے ایک متمدن شہر بنا دیا ہے۔قادیان کا سوال اس لئے سامنے نہ تھا کہ پورا خاندان میرے ساتھ تھا اور ربوہ تو خیر میں کراچی سے تنہا بھی آ سکتا تھا لیکن افسوس ہے کہ میرا یہ ارادہ پورا نہ ہو سکا۔اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ میرے ویزا میں ربوہ درج نہ تھا۔دوسرے یہ کہ میری صحت اس کی متقاضی نہ تھی کہ موسم گرما میں سفر ریگستان کی جرات کرسکوں لیکن میری اس پست ہمتی کی تلافی کسی نہ کسی حد تک اس طرح ہو گئی کہ بعض مخلصین سے امرتسر سٹیشن پر تبادلۂ نگاہ ہو گیا بعض سے لاہور میں یا داللہ ہو گئی اور جب کراچی