تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 605 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 605

تاریخ احمدیت 605 جلد ۲۰ اشتیاق پیدا ہو گیا۔احمدی نوجوانوں نے اس موقعہ پر نہ صرف چودہ قسم کے انگریزی ٹریکٹ ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں تقسیم کیئے بلکہ اردو، ہندی، بنگلہ اور گورمکھی زبانوں کا لڑ پچر بھی تقسیم کیا۔اسٹیج پر نمائندگان مذاہب کے علاوہ مدترین مفکرین واکابر شہر تشریف فرما تھے۔یہ وہ مقام تھا جہاں دوسروں کا گذر محال تھا۔لیکن خدا تعالیٰ کا خاص فضل و کرم یہ ہوا کہ مستعد احمدی نوجوانوں نے اُسی حلقہ خاص میں پہنچ کر منا سب ٹریکٹ تقسیم کئے، جہاں دوسرے فرقوں کی اکثر کتابوں کی تقسیم کو حکما روک دیا گیا مگر خدام احمدیت کے لئے کوئی امتناعی حکم صادر نہ ہوا ممالک غیر کے نمائیندگان اور ہندو پاک کے مشاہیر کو ضخیم اور قیمتی کتب پیش کی نہ ہو گئیں۔کا نفرنس میں جناب محمد نور عالم صاحب ایم اے نے جماعت احمدیہ کلکتہ کی طرف سے پریس رپورٹر کے فرائض انجام دیئے۔آپ کی مطبوعہ رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے جلسہ کے اختتام پر مجھے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کوتاہ عملی و تغافل کیشی کو نظر انداز کر کے اور ہماری شکست سامانی پر ترس کھاتے ہوئے اس عالمی کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام تو غیروں کے سپرد کیا اور اس کے مقاصد کو ہمارے حق میں کر دیا۔اور اس طرح یہ کانفرنس کافی حد تک اسلام واحمدیت کی تبلیغ کا ذریعہ بنی رہی۔سر دارد یوان سنگھ مفتون ایڈیٹر اس سال فروری کے تیسرے ہفتہ میں دہلی کے ۱۳۹۱ مشہور ہفت روزہ ”ریاست“ کے نامور ایڈیٹر سردار ”ریاست“ دہلی ربوہ میں دیوان سنگھ صاحب مفتون پاکستان تشریف لائے۔۲۱ فروری کو دہلی سے لاہور پہنچے اور چند روزہ قیام کراچی کے بعد ٢ / مارچ ۱۹۶۰ء کی شام کو بذریعہ چناب ایکسپریس وار در بوہ ہوئے اور تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہوئے۔اگلے روز صبح کو آپ نے سید نا حضرت مصلح موعود سے شرف ملاقات حاصل کیا اور پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہجہانپوری اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔بعد ازاں فضل عمر ہسپتال اخبار الفضل اور تحریک جدید اور صد رانجمن احمدیہ پاکستان کے مرکزی دفاتر دیکھنے کے علاوہ جامعہ احمدیہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج میں بھی گئے۔کالج میں آپ نے ایک مختصر سی تقریر بھی کی۔سوا تین بجے کے