تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 588
تاریخ احمدیت 588 جلد ۲۰ نے کی۔اسلام اور سائنس کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد السلام نے کہا کہ سائنس ایک زمانہ میں مسلمانوں کا فن تھا۔انہوں نے یونانیوں سے بہت کچھ لیا تھا اور اس میں خود بھی بہت کچھ اضافہ کیا تھا۔ترکوں کے دور میں بھی مسلمان اپنے وقت کے بڑے سائنس دان اور ٹیکنالوجی ایٹ تھے جنکی مدد سے وہ اپنے سمندری بیڑے اور گولہ باری میں نت نئی جدتیں کیا کرتے تھے اور یورپ کی قو میں ان سے خوفزدہ رہا کرتی تھیں۔آج اس کے برعکس یورپ سائنس پر پوری طرح چھایا ہوا ہے اور مسلمان پیچھے ہیں۔انہوں نے اپنے انگلستان اور پاکستان کے درس و تدریس کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے طلباء کی صلاحیتوں اور انگلستان کے طلبہ کی صلاحیتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور بتایا کے اگر پوری قوم نے وقت کی اس ضرورت پر توجہ کی تو وہ دن دور نہیں کہ جب مسلمان بھی پہلے کی طرح سائنس کے میدان میں نہ صرف زمانہ سے پیچھے نہیں رہیں گے بلکہ باقی دنیا کی رہنمائی کے قابل ہو جائیں گے۔باقی دنیا میں سائنس کی ترقی اور ہندوستان و پاکستان میں اس کی موجودہ صورت حال کا تقابل کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سائنس میں کام دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک نظریاتی اور دوسرے عملی۔نظریاتی کام ایک مقررہ راستے پر ہوتے ہیں اور آدمی غور وفکر سے نئے خیالات پیش کرتا ہے جو خدا کی دین ہوتے ہیں۔یہ ایک طرح کا الہام ہے اور فرانس کے ایک مشہور سائنسدان کا قول ہے کہ " قسمت کی دیوی انہیں لوگوں پر مہربان ہوتی ہے جو پہلے سے تیار ہوتے ہیں“۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ خدا کی دین جب یہودی اور عیسائی سائنسدانوں کو نصیب ہوتی ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ مسلمانوں کو نصیب نہ ہو انہوں نے بتایا کہ نظریاتی سائنس میں ہندوستان اور پاکستان میں اچھے سائنسدان موجود ہیں۔البتہ عملی سائنس میں سوائے شری دی رامن اور کرشن کے کسی بھی سائنسدان نے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ہے۔پھر بھی امید ہے کہ آئندہ ہیں سال میں اس میدان میں ہمارے ملکوں کی حالت بہتر ہو جائے گی۔۱۵/جنوری ۱۹۶۰ء کا دن مشرقی افریقہ کی شیخ امری عبیدی صاحب احمدی جماعتوں کے اثر ونفوذ میں ایک نئے باب کے اضافہ کا موجب ثابت ہوا کیونکہ اس روز احمد یہ من مشن کا بطور میئر انتخاب دار السلام کے مبلغ انچارج شیخ امری عبیدی صاحب